نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 630 of 822

نزول المسیح — Page 630

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۲۶ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے پس یہ امر معقول ہے کہ ان کششوں کے انتہائی درجہ کے زوروں کے وقت جو دنیا کا آخری زمانہ ہے ان دونوں میں لڑائی ہونا چاہئے تھی کیونکہ اقبال کا تقاضا ہے کہ فریق مخالف کو فنا کرے ۔ پس جس موقعہ اور محل میں فریقین برابر درجہ کا اقبال وشوکت رکھیں گے ،ایسے دو فریق بغیر لڑائی کے نہیں رہ سکتے کیونکہ ہر ایک خدا کے نبیوں کی کتابوں میں پیشگوئی کے طور پر بیان کی گئی ہے ۔ ایسا ہی عقل بھی اس کو ضروری سمجھتی ہے ۔ کیونکہ جب دو مخالف اور پُر زور کششوں میں باہم ٹکر لگے تو ضروری ہے کہ ایک دوسری کو فنا کر دیوے یا دونوں فنا ہو جاویں اور اس لڑائی کے بارہ میں نبیوں کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام سے پورا ہزار برس گزرا جس میں نبیوں کی پیشگوئی کے مطابق شیطان قید کیا گیا تھا تو سفلی کشش نے زمین پر اپنا رنگ جمانا شروع کیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جبکہ اسلام اپنے پاک اصولوں کے لحاظ سے تنزل کی حالت کی طرف مائل ہو گیا تھا اور اس کی روحانی ترقیاں رک گئی تھیں اور اس کی ظاہری فتوحات کا بھی خاتمہ ہو چکا تھا اور وہ شیطان کے قید ہونے کے دنوں میں پیدا ہوا۔ اور ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا جیسا کہ تمام نبیوں نے یوحنا فقیہ تک گواہی دی ہے۔ اور شیطان کے چھوٹنے پر یعنی ۱۰۰۰ عیسوی کے بعد اس کا تنزل شروع ہو گیا اور وہ آگے بڑھنے سے رک گیا تب سے شیطانی کارروائیاں رنگارنگ کے پیراؤں میں شروع ہوئیں اور زمین پر یہ پودا بڑھتا گیا۔ اور اس کی شاخیں کچھ تو مشرق کی طرف پھیل گئیں اور کچھ مغرب کی انتہائی آبادیوں تک جانکلیں اور کچھ جنوب کی طرف اور کچھ شمال کی طرف متوجہ ہوئیں جیسا کہ شیطان کے قید رکھنے کا زمانہ ہزار برس تھا جس پر واقعات خارجیہ نے گواہی دی ہے ایسا ہی نبیوں کی پیشین گوئیوں کے رو سے شیطان کے چھوٹنے کا زمانہ بھی ہزار برس ہی تھا جو ہجرت کی چودھویں صدی کے سر پر پورا ہو جاتا ہے۔ مگر یہ ہزار برس خدائی حساب کے رو سے ہے یعنی چاند کے حساب سے اور خدا کی طرف