نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 822

نزول المسیح — Page 512

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۰۸ نزول المسيح تاریخ بیان جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت تاریخ ظہور نمبر شمار پیشگوئی پیشگوئی نمبر ۸ زندہ گواہ رویت کے ۷۰۰۷۷۱ پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں يا عبدالقادر انی معک اسمع واری غرست لک بیدی | رحمتی و قدرتی و القیت علیک محبة منى ولتصنع على عيني۔ كزرع اخرج شطأه فاستغلط فاستوى على سوقه دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۴ ۔ ترجمہ۔ اے قادر کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں۔ میں نے اپنی محبت تیرے پر ڈال دی تا کہ تو میری آنکھوں کے روبرو پرورش کیا جائے۔ تو ایک بیج کی طرح ہے یعنی اکیلا ہے جس کی ابھی کوئی شاخ نہیں نکلی۔ صرف ایک سبزہ نکلا مگر بعد اس کے ایسا ہو گا کہ وہ سبزہ موٹا ہو جاوے گا اور اس کی شاخیں تنا پر قائم ہوں گی اور وہ ایک بڑا درخت بن جائے گا اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کس قدر صفائی سے پوری ہوئی اور باوجود سخت مخالفوں کی سخت مزاحمتوں کے یہ سلسلہ ایک عظیم بزرگی کے ساتھ قائم ہو گیا اور جیسا کہ پیشگوئی کا منشاء تھا اس قسم کی بہت سی شاخیں نکل آئیں اور پنجاب اور ہندوستان میں پھیل گئیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ براہین احمدیہ میں بارہا یہ ذکر آچکا ہے کہ تو اس وقت اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں جیسا کہ ایک جگہ میری دعا کا خود خدا تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرُنِي فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ | یعنی اے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو بہترین ورثاء ہے پس اس جگہ خدا گواہی دیتا ہے کہ اس الہام کے وقت میں اکیلا تھا سوخدا نے وعدہ دیا کہ تو اکیلا نہیں رہے گا اور ایک جہان تیری شاخوں میں داخل ہو جائے گا۔ پیشگوئی یہ پیشگوئی ہیں برس بعد طاعون کے زمانہ میں پوری ہوئی براہین احمدیہ ان تمام پیشگوئیوں کی گواہ ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ اس زمانہ کی پیشگوئیاں ہیں کہ جبکہ اس اقبال اور عزت اور کامیابی کے کچھ بھی آثار نہ تھے کہ جواب ۱۹۰۱ ء و ۱۹۰۲ء میں ظہور میں آئے ۔ ۱۳۰