نزول المسیح — Page 493
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۸۹ نزول المسيح دینا چاہتے ہیں گناہ سے پاک ہونا بجز اس کے ممکن ہی نہیں کہ ہیبت اللہ کی موت یقین (1) کی تیز شعاعوں کی وجہ سے انسان کے دل پر وارد ہو جائے اور سچی محبت اور کچی ہیبت دل میں بس جائے اور دل خدا کے جمال اور جلال سے رنگین ہو جائے اور یہ دونوں کیفیتیں کبھی اور ہرگز دل میں آہی نہیں سکتیں جب تک کہ خدا کی ہستی اور اس کی ان دونوں قسم کے صفات پر یقین پیدا نہ ہو ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ نجات کی جڑ اور نجات کا ذریعہ صرف یقین ہے۔ وہ یقین ہی ہے کہ باوجود بلاؤں کے سامنے کے اطاعت کے لئے گردن جھکا دیتا اور آگ میں داخل ہونے کے لئے کھڑا کر دیتا ہے وہ یقینی نظارہ ہی ہے جو عاشق بنا دیتا ہے اور مرنے کے لئے تیار کر دیتا ہے۔ وہ یقینی نظارہ ہی ہے کہ جس سے انسان خدا کے لئے آرام کا پہلو چھوڑتا اور مخلوق کی تعریف اور تحسین سے لا پرواہ ہو جاتا اور ایک کے لیے تمام دنیا کو اپنا خطرناک دشمن بنا لیتا ہے۔ انسان یقینی ہیبت کی وجہ سے مباح چیزوں کو بھی ڈرتا ڈرتا ہی استعمال کرتا ہے اور زبان کو نا گفتنی باتوں سے روکتا ہے گویا اس کے منہ میں سنگریزے ہیں اور یہ یقین یا تو دیدار سے میسر آتا ہے اور یا اس گفتار سے جو خدا کا یقینی کلام ہے جو اپنی طاقت اور شوکت اور دلکش خاصیت اور خوارق سے ثابت کر دیتا ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے بجز اس صورت کے نہ خدا کی ہستی پر یقین آسکتا ہے اور نہ اس کی صفات پر۔ اب جس حالت میں یہ مانا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ یقینی کلام کسی بندہ پر نازل فرما دے اور اس کا وعدہ انعمت عليهم اس امکان کو ضروری ٹھہراتا ہے اور نجات بھی اسی کلام الہی پر موقوف ہے جو یقینی ہو اور انسانی فطرت بھی اس کی پیاسی پائی جاتی ہے تو کیوں اور کیا وجہ کہ خدا اس فیض سے امت کو محروم رکھے ۔ کیا انسان کی فطرت میں یہ جوش نہیں ڈالا گیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین پیدا کرے اور کوئی ایسا ذریعہ اس کو حاصل ہو جس سے وہ سمجھ لے کہ وہ اپنی تمام پاک صفات کے ساتھ در حقیقت موجود ہے مگر کیا وہ ذریعہ صرف آسمان اور زمین کی صنعتیں ہو سکتی ہیں ہر گز نہیں کیونکہ غایت درجہ ان سے صرف ضرورت خالق محسوس ہوتی ہے نہ کہ یہ کہ خالق در حقیقت موجود بھی ہے اور ضرورت خالق پر دلیل