نزول المسیح — Page 492
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۸۸ نزول المسيح رہے کہ ضرور ان انعامات میں جو نبیوں کو دیئے گئے اس امت کے لئے حصہ رکھا گیا ہے کیونکہ اگر مسلمانوں کے کامل افراد کی فطرتوں میں یہ حصہ نہ ہوتا تو ان کے دلوں میں یہ خواہش نہ پائی جاتی کہ وہ خداشناسی کے درجہ میں حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جائیں اور ان انعامات سے سب سے بڑھ کر یقینی مخاطبات اور مکالمات کا انعام ہے جس سے انسان اپنی خدا شناسی میں پوری ترقی کرتا ہے گویا ایک طور سے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتا ہے اور اس کی ہستی پر رویت کے رنگ میں ایمان لاتا ہے تب الہی ہیبت پورے طور پر اس کے دل پر کام کرتی ہے اور جیسا کہ ہر ایک جگہ روبیت اور یقین کا خاصہ ہے وہ خاصہ اس کے اندر اپنا کام کرنے لگتا ہے اور شکوک اور شبہات کی تاریکی اس طرح دور ہو جاتی ہے جیسا کہ آفتاب سے ظلمت ۔ تب روئے زمین پر اس جیسا کوئی انسفی نہیں ہوتا اور اس جیسا کوئی گناہ سے بیزار نہیں ہوتا اور اس جیسا اس خالق یگانہ سے کوئی محبت کرنے والا نہیں ہوتا اور اس جیسا اس یار کا کوئی وفادار نہیں ہوتا ۔ اور اس جیسا کوئی ڈرنے والا نہیں ہوتا اور اس جیسا کوئی تو کل کرنے والا نہیں ہوتا ۔ اور اس جیسا پیوند میں کوئی صادق نہیں ہوتا۔ اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے یقینی اور قطعی وحی کا قیامت کے دن تک اس امت کو وعدہ کیا گیا ہے ایسا ہی عقل بھی نوع انسان کے لئے اس کو ضروری سمجھتی ہے کیونکہ گناہ اور فسق و فجور کا علاج اور چارہ بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ خدا کا جمال اور جلال یقینی طور پر انسان پر مکشوف ہو۔ وجہ یہ کہ تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ یا تو سچی محبت گناہ اور مخالفت سے روکتی ہے یا کچی ہیبت نا فرمانیوں سے باز رکھتی ہے اور سچی محبت میں بھی ایک خوف ہوتا ہے اور وہ یہی کہ یار مہربان سے تعلق نہ ٹوٹ جائے اور جس پر سچی محبت اور کچی ہیبت کی کیفیت یقینی طور پر وارد ہو اور یا وہ شخص کہ جو کامل طور پر اس شخص کا شناسندہ اور محبت کنندہ اور اس کا زیر اثر ہو وہ بلا شبہ گناہ سے روک لیا جاتا ہے اور دوسرے لوگ دنیا میں جس قدر ہیں ان میں سے کوئی بھی گناہ کے زہر سے خالی نہیں۔ ہاں مکاری سے بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم بے گناہ ہیں اور ہمارے دلوں میں کوئی ناپاکی نہیں مگر وہ جھوٹے ہیں اور خدا اور مخلوق کو دھوکا