نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 822

نزول المسیح — Page 476

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۷۲ نزول المسيح (۹۴) قائم نہ کرتا اور اگر تم چالاکی سے کہو کہ ہم ایسے ہی ہیں جیسا کہ بیان کیا گیا اور ہم میں گناہ کی کوئی تاریکی نہیں اور پورے یقین کے انجن سے ہم کھنچے جا رہے ہیں تو تم نے جھوٹ بولا ہے اور آسمان اور زمین کے بنانے والے پر تہمت لگائی ہے اس لئے قبل اس کے جو تم مرد خدا کی لعنت تمہاری پردہ دری کرے گی۔ یقین اپنے نوروں کے سمیت آتا ہے۔ کوئی آسمان تک نہیں پہنچا سکتا ہے مگر وہی جو آسمان سے آتا ہے۔ اگر تم جانتے کہ خدا کا تازہ بتازہ اور یقینی اور قطعی کلام تمہاری بیماریوں کا علاج ہے تو تم اس سے انکار نہ کرتے جو عین صدی کے سر پر تمہارے لئے آیا۔ اے غافلو یقین کے بغیر کوئی عمل آسمان پر جا نہیں سکتا اور اندرونی کدورتیں اور دل کی مہلک بیماریاں بغیر یقین کے دور نہیں ہوسکتیں ۔ جس اسلام پر تم فخر کرتے ہو یہ رسم اسلام ہے نہ حقیقت اسلام حقیقی اسلام سے شکل بدل جاتی ہے اور دل میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے اور سفلی زندگی مرجاتی ہے اور ایک اور زندگی پیدا ہوتی ہے جس کو تم نہیں جانتے یہ سب کچھ یقین کے بعد آتا ہے اور یقین اس یقینی کلام کے بعد جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ خدا ، خدا کے ذریعہ سے ہی پہچانا جاتا ہے نہ کسی اور ذریعہ سے ۔ تم میں سے کون ہے جو اپنے ہم کلام کو شناخت نہیں کر سکتا ۔ پس اسی طرح مکالمات کی حالت میں معرفت میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ بندہ کا دعا کرنا اور خدا تعالیٰ کا لطف اور رحم سے اس دعا کا جواب دینا نہ ایک دفعہ نہ دو دفعہ بلکہ بعض موقعہ پر ہیں میں دفعہ یا تھیں تھیں دفعہ یا پچاس پچاس دفعہ یا قریباً تمام رات یا قریباً تمام دن اسی طرح ہر یک دعا کا جواب پانا اور جواب بھی فصیح تقریر میں۔ اور بعض دفعہ مختلف زبانوں میں اور بعض دفعہ ایسی زبانوں میں جن کا علم بھی نہیں اور پھر اس کے ساتھ ایسے نشانوں کی بارش اور معجزات اور تائیدوں کا سلسلہ۔ کیا یہ ایسا عمل ہے کہ اس قدر مسلسل مکالمات اور مخاطبات اور آیات بینات کے بعد پھر خدا کے کلام میں شک رہے۔ نہیں نہیں بلکہ یہ ایسا امر ہے کہ اس کے ذریعہ سے بندہ اسی عالم میں اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کے لئے بلا تفاوت یکساں ہو جاتے ہیں اور جس طرح نورہ کے استعمال سے یکدفعہ بال گر جاتے ہیں ایسا ہی اس نور کے نزول جلال سے