نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 822

نزول المسیح — Page 475

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۷۱ نزول المسيح کہ جو یقین کی آنکھ سے خدا کو دیکھتا ہے باقی سب قصے جھوٹ ہیں اور سب کفارے باطل ہیں سو (۹۳) وہی زندہ خدا اس آخری زمانہ میں اپنے تئیں پیش کرتا ہے تا لوگ ایمان لاویں اور ہلاک نہ ہوں ۔ قرآن شریف خدا کا کلام تو ہے بلکہ سب سے بڑا کلام مگر وہ تم سے بہت دور ہے تمہاری آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اب وہ تمہارے ہاتھ میں ایسا ہی ہے جیسا کہ توریت یہودیوں کے ہاتھ میں ۔ اسی وجہ سے اگر تم انصاف کرو تو گواہی دے سکتے ہو کہ باعث اس کے کہ اس پاک کلام کے یقینی انوار تمہاری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں تم اس سے باطنی تقدس کا کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے اور اگر واقعات خارجیہ کی شہادت کچھ چیز ہے تو تم انصافاً آپ ہی شہادت دے سکتے ہو کہ اس موجودہ زمانہ میں تمہاری کیا حالتیں ہیں سچ کہو کہ کیا تم گناہوں سے اور تمام ان حرکات سے جو تقویٰ کے برخلاف ہیں ایسے ڈرتے ہو جیسا کہ ایک زہر ہلاہل کے استعمال سے انسان ڈرتا ہے۔ سچ کہو کہ کیا تم اس تقویٰ پر قائم ہو جس تقویٰ کے لئے قرآن شریف میں ہدایت کی گئی تھی ۔ سچ کہو کہ وہ آثار جو بچے یقین کے بعد ظاہر ہوتے ہیں وہ تم میں ظاہر ہیں۔ تم اس وقت جھوٹ نہ بولو اور بالکل سچ کہو کہ کیا وہ محبت جو خدا سے کرنی چاہئے اور وہ صدق و ثبات جو اس کی راہ میں دکھلانا چاہیے وہ تم میں موجود ہے۔ تم خدائے عزوجل کی قسم کھا کر کہو کہ اس مردار دنیا کو جس صفائی سے ترک کرنا چاہئے کیا تم اُسی صفائی سے ترک کر چکے ہو اور جس اخلاص اور توحید اور تفرید سے خدائے واحد لاشریک کی طرف دوڑنا چاہیے کیا تم اُسی اخلاص سے اُس کی راہ میں دوڑ رہے ہو۔ ریا کاری سے بات مت کرو اور لاف زنی سے لوگوں کو خوش کرنا مت چاہو کہ وہ خدا در حقیقت موجود ہے جو تمہارے ہر ایک قول اور فعل کو دیکھ رہا ہے ۔ تم بات کرتے وقت اس قادر کا خیال کر لو جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے وہ جھوٹی شیخیوں کو ایک دم جہنم کا ہیزم کر سکتا ہے۔ سو تم سچ سچ کہو کہ تمہارے قدم دنیا کی خواہشوں یا دنیا کی آبروؤں یا د نیا کے مال و متاع میں پھنسے ہوئے ہیں یا نہیں۔ پس اگر تمہیں خدا پر یقین حاصل ہوتا تو تم اس زہر کو ہرگز نہ کھاتے اور قریب تھا کہ دنیا اس زہر سے مرجاتی اگر خدا یہ آسمانی سلسلہ اپنے ہاتھ سے