نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 822

نزول المسیح — Page 430

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۲۶ نزول المسيح بقیہ حاشیہ (۳۸) کے راستباز بندوں میں سے تھے لیکن ایسے بندے تو کروڑہا دنیا میں گذر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔ پس بلا وجہ ان کو تمام انبیاء کا سردار بنا دینا خدا کے پاک رسولوں کی سخت ہنگ کرنا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اُس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا تعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ کی طرف رجوع کیا ہوتا کہ وہ کیا کہتے ہیں جہاں تک میں اپنی تفسیروں کو دیکھتا ہوں ان میں بھی اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں ایک شخص بیہقی اور حاکم اور ابو نعیم کا حوالہ دیتا ہے اور ایک روایت یا واقعہ بیان کرتا ہے۔ دوسرا اس کے بالمقابل قرآن مجید سے نکال کر خدا کا کلام پیش کرتا ہے اور اپنے دعویٰ کے واسطے سنت صحیحہ اور حدیث پیش کرتا ہے ہم کس کو مانیں اور کس کو جانیں کہ وہ عالم اور عامل بالقرآن ہے۔ اس کے آگے آپ فرماتے ہیں ثابت ہے کہ حسین اور اس کے آباء اطہار کو انبیاء و اوصیاء نے سخت تکلیف کے وقت خدا اور اپنے درمیان وسیلہ قرار دیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حاجتیں پوری ہوئیں۔ آپ اپنے زعم کی بنیاد مجاہد اور طبرانی اور حاکم وغیرہ کا قول قرار دیتے ہیں اور آیت فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِلمیت کو اپنے زعم کی تفسیر قرار دیتے ہیں گویا آپ کا قول مجمل تھا جو پہلے سے کسی کتاب آسمانی میں درج چلا آتا تھا قرآن نے اس کی تصریح کر دی ہے۔ بریں علم و دانش باید گریست ۔ اسی فہم لطیف کے بھروسہ پر اپنے مخالف پر طعن کرتے ہیں ذرا انصاف کریں اور اپنی ہی کتابوں کو دیکھیں کہ کیا علماء اور مفسرین امامیہ نے کلمات کی تفسیر میں صرف انہی نامہائے مبارک پر حصر تفسیر رکھا ہے۔ میرے پاس اس وقت تین تفسیر میں امامیہ کی موجود ہیں۔ تفسیر عمدۃ البیان، خلاصة المنهج ، مجمع البیان ان میں بہت سے مختلف اقوال درج ہیں پھر حیات القلوب نکال کر جلد اول صفحہ ۵۶ و ۵۷ میں روایات مختلفہ کا حال علی عائری صاحب نے اپنے رسالہ تبصرۃ العقلاء میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اہل بیت کے برابر غیر اہل بیت نہیں ہوسکتا اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ سادات کی جڑ یہی ہے کہ وہ بنی فاطمہ ہیں۔ سوئیں اگر چہ علوی تو نہیں ہوں مگر بنی فاطمہ میں سے ہوں میری بعض دادیاں مشہور اور ریح النسب سادات میں سے تھیں ۔ ہمارے خاندان میں یہ طریق ۴۹ جاری رہا ہے کہ کبھی سادات کی لڑکیاں ہمارے خاندان میں آئیں اور کبھی ہمارے خاندان کی لڑکیاں اُن کے گئیں۔ ماسوا اس کے یہ مرتبہ فضیلت جو ہمارے خاندان کو حاصل ہے صرف انسانی روایتوں تک محدود نہیں بلکہ خدا نے اپنی پاک وحی سے اس کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ وہ عزوجل ایک اپنی وحی میں جو کا یتا عن الرسول ہے میرا نام سلمان رکھتا ہے اور فرما تا ہے سلمان منا اهل البيت على مشرب الحسن یعنی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سلمان جود وسلم کا موجب ہوگا۔ یعنی دو صلح کا موجب ہوگا۔ یہی شخص ہے اور یہ اہل بیت میں سے ہے حسن کے مشرب پر۔ اور پھر ایک اور وحی میں فرماتا ہے الحمد لله الذي جعل لكم الصهر و النسب اُس خدا کو تعریف ہے جس نے تمہیں سادات کا داماد بنایا اور نیز نسب عالی بھی عطا کی جس میں خون فاطمی ملا ہوا ہے اور پھر ایک کشف میں جو براہین احمدیہ میں مندرج ہے میرے پر ظاہر کیا گیا کہ میرا سر بیٹوں کی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہے علاوہ اس کے جس شخص کو خدا نے مسیح موعود بنایا صد بانشان دیئے اور اس کو رسول اللہ صلعم نے ائمہ اہل بیت میں سے قرار ☆ دیا اور اس کو مظہر صفات جمیع انبیاء ٹھہرایا اس کی نسبت یہ زبان درازیاں کرنا خدا اور رسول پر حملہ کرنا ہے۔ منہ