نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 822

نزول المسیح — Page 410

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۰۶ نزول المسيح نمونہ پیش کرے اور اس نشان میں ظاہر کیا گیا ہے کہ جیسا کہ کسوف خسوف کچھ تھوڑی مدت کے بعد رفع اور دور ہو جاتا ہے اور یہ دونوں نیز اپنی اپنی سلطنت پر قائم ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی اس جگہ بھی ہوگا۔ سنی اور شیعہ دونوں گروہ اس کسوف خسوف کے تیرہ سو برس سے منتظر تھے مگر جب وہ ظاہر ہوا تو اُس کی تکذیب کی ۔ کیا یہودیت کے کچھ اور بھی معنی ہیں ۔ پھر دیکھو کہ قرآن اور حدیث دونوں بتلا رہے ہیں کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے یعنی اُن کے قائم مقام کوئی اور سواری پیدا ہو جائے گی یہ حدیث مسلم میں موجود ہے اس کے الفاظ یہ ہیں ویتر كـن القلاص فلايسعى عليها اور قرآن کے الفاظ یہ ہیں وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ ، شیعوں کی کتابوں میں بھی یہ حدیث موجود ہے مگر کیا کسی نے اس نشان کی کچھ بھی پروا کی۔ ابھی عنقریب اس پیشگوئی کا دلکش نظارہ مکہ اور مدینہ کے درمیان نمایاں ہونے والا ہے جبکہ اونٹوں کی ایک لمبی قطار کی جگہ ریل کی گاڑیاں نظر آئیں گی اور تیرہ سو برس کی سواریوں میں انقلاب ہو کر ایک نئی سواری پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت ان مسافروں کے سر پر جب یہ آیت وَإِذَا الْعِشَارُ عُظِلت اور یہ حدیث ويتركن القلاص فلا يسعى عليها پڑھی جائے گی تو کیسے انشراح صدر سے ان کو ماننا پڑے گا کہ یہ در حقیقت آج کے دن کے لئے ایک نشان تھا اور ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو ہمارے نبی کریم کے مبارک لبوں سے نکلی اور آج پوری ہوئی مگر افسوس اے تکذیب کرنے والو تم کب باز آؤ گے وہ کب دن آئے گا جو تمہاری بھی آنکھیں کھلیں گی۔ خدا کے نشان یوں بر سے جیسے برسات میں مینہ برستا ہے مگر تمہاری خشکی دور نہ ہوئی۔ دیکھتے دیکھتے صدی کا پانچواں حصہ بھی گذر گیا مگر ۲۹ تمہارا کوئی مجد دظاہر نہ ہوا۔ خدا نے نشانوں کے دکھلانے میں کمی نہ رکھی ۔ کسوف خسوف رمضان میں بھی ہوا اور بموجب حدیث کے ستارہ ذوالسنین بھی مدت ہوئی التكوير : ۵