نزول المسیح — Page 409
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۰۵ نزول المسيح کیا اس سے زیادہ کوئی اور شرارت ہو گی۔ کیا خسوف کسوف رمضان میں نہیں ہوا؟ کیا شیعہ اور سنی دونوں فریق کی کتابوں میں یہ حدیثیں موجود نہیں! کیا بجز میرے کسی اور مدعی کے وقت ہوا؟ اور کون ہے جس نے کہا کہ یہ میرے لئے ہوا؟ اور یہ کہنا کہ یہ حدیث صحیح نہیں یہ دوسرا ظلم ہے۔ اے نادانوں جبکہ یہ حدیث سکوں اور شیعوں دونوں فریق کی کتابوں میں موجود ہے اور پھر علاوہ اس کے خدا نے حدیث کے مضمون کو واقع کر کے اس کی صحت ثابت کر دی تو یہ حدیث تو اور تمام حدیثوں کی نسبت اول درجہ کی قوی ہوگئی کیونکہ نہ صرف یہ کہ دو فریق اس کے محافظ چلے آئے ہیں بلکہ خدا نے اس حدیث کی پیشگوئی کو پورا کر کے اس کی سچائی پر مہر کر دی اور اس سے علاوہ یہ کہ پہلی کتابوں میں بھی مسیح موعود کی علامت خسوف و کسوف لکھا ہے اور یہ حدیث کتاب دار قطنی اور اکمال الدین میں ہے جس پر انہوں نے کوئی جرح نہیں کی۔ اور یہ امر که خسوف کسوف مهدی موعود کی علامت کیوں ٹھہرایا گیا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا انکار جو زمین پر ہو رہا ہے یہ موجب غضب الہی ہے چنانچہ بعد اس کے زمین پر وہ غضب بذریعہ طاعون ظاہر ہو گیا۔ غرض اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ لوگوں کی تنبیہ اور یاد دہانی کے لئے یہ نمونہ آسمان پر قائم کرے اور نمونہ کے لئے کسوف خسوف دونوں کو اختیار کیا گیا ہے کیونکہ آفتاب کی سلطنت دن پر ہے اور ماہتاب کی سلطنت رات پر اسی طرح یہ امام موعود دونوں سلطنتوں کا مالک کیا گیا ہے۔ یعنی دین اسلام جو بطور دن کے ہے اور دوسرے ادیان جو بطور رات کے ہیں۔ ان سب پر حکمرانی کرنے کے لئے یہ موعود آیا ہے پس ایسے وقت میں کہ اس کے دن کی سلطنت میں بھی روکیں اور حجاب ہیں اور نیز رات کی سلطنت میں بھی روکیں ہیں حکمت الہی نے چاہا کہ آسمان پر کسوف خسوف کا انذاری