نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 250

۲۵۰ نور الحق الحصة الثانية روحانی خزائن جلد ۸ من سواه۔ وأرسلوا في تلك الديار وبلادِ أهل الإنكار رجُلين عارِفين، وإن بدلہ کی امید مت رکھو اور ان ولایتوں میں دو باخبر آدمی بھیجو اور کنتم تشاورونني وتسألوننى فقد قلتُ وبينت لكم اسم رجل رأيتُ فضله اگر مجھ سے مشورہ طلب کرو سو میں ایسے آدمی کا نام بیان کر چکا ہوں جس کا میں حمد وعلمه ومتانته وحلمه برأى العين۔ نعم إنه يحتاج إلى رفيق آخر أو رفيقين من فضل اور علم اور متانت اور حلم دیکھا ہے ہاں وہ ایک یا دو ایسے رفیقوں کا الذين كانوا في لسان العرب ماهرين، وفي علم القان متبحرين، فأعينوه في محتاج ہے جو لسان عرب میں ماہر اور علم قرآن میں بہت وافر هذا يا معشر المسلمين۔ فإن فعلتم وكما قلتُ عملتم، فتبقى لكم مآثر الخير رکھتا ہوں سو اے مسلمانو اس کو اس بارہ میں مدد دو پس اگر تم نے ایسا کیا اور میرے کہنے پر عمل کیا إلى آخر الزمان، وتُبعثون مع أحباء الرحمن، وتُحشرون في عباد الله حصہ سو تو اخیر زمانہ تک نیک یادگار تمہاری باقی رہے گی اور تم مقبولوں کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے المجاهدين، فاسمحوا رحمكم الله، وقوموا لله قانتين۔ أقول لكم مثلا جوانمردی دکھلاؤ خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے اور فرمانبردار بن کر اٹھ کھڑے ہو میں ایک مثال کہتا ہوں فاستمعوا له كالمنصفين كل رجل يرضى أن يبذل كل ما يملكه لينجو مثلا منصفوں کی ﷺ اس کو سنو۔ ہر یک انسان اس بات پر راضی ہو جاتا ہے کہ تمام مال خرچ کر کے مثلاً حبس ریح من مرض احتباس الضراط ، فما له لا يرضى لإعانة الدين والصراط؟ أليس کی مرض سے خلاصی پاوے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح ہوا خارج ہو جاوے پھر اس پر کیا پردہ پڑا ہے کہ دین کی عنده قدر الصراط كقدر الضراط؟ فتَفكَّروا كالمستحيين۔ ثم إعانة الدين من | اعانت کے لئے مال خرچ کرنے پر راضی نہیں ہوتا کیا دین اس کے نزدیک اس بد بودار ہوا کے بھی (۵۴) أعظم وسائل الفلاح وذرائع الصلاح، مع جميل الذكر وطيب الثناء برابر نہیں جو اندر سے نکلتی ہے سو تم اہل حیا کی طرح سوچو پھر دین کی مدد کرنا ایک بڑا بھاری ذریعہ صلاح وفلاح ہے سہو کتابت ہے ” میں نے “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) سهو والصحيح ” القرآن “۔ (الناشر) سہو کتابت ہے” رکھتے “ہونا چاہیے۔ (ناشر) سہو کتابت ہے کی طرح “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)