نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 241

۲۴۱ نور الحق الحصة الثانية روحانی خزائن جلد ۸ صبت على قمر السماء مصيبة وكمثلنا بزوال نورِ يُرْعَبُ آسمان کے چاند پر مصیبت پڑ گئی اور ہماری طرح نور کے زوال پر ڈرایا جاتا ہے إني أرى قـطـــــا لـــــديـه كـأنـه يـبـكـي كــرجـل يُنْهَبَنُ ويُخيَّـبُ میں مینہ اس کے پاس دیکھتا ہوں گویا کہ وہ اس شخص کی طرح روتا ہے جولوٹا جائے اور نومید کیا جائے يا قمر زاوية السّماء تصبَّرَنُ مثلى فيدركك النصير الأقربُ گوشه آسمان کے چاند میری مانند صبر کر پس خدا تیری مدد کرے گا سينحسر الظلام بفضله إن البليّة لا تدوم وتذهَبُ خوش ہو کہ عنقریب تاریکی دور ہو جائے گی مصیبت ہمیشہ نہیں رہتی اور چلی جاتی ہے إن المهيمن لا يُضيع ضياءَه فلكل نور حافظ ومؤرّبُ خدا اپنی روشنی کو دور نہیں کرتا اور ہر یک نور کے لئے نگہبان ہے اور پورا کرنے والا هذا ظلام الساعتين وإنني من برهة أرنو الدُّجى وأعدَّبُ یہ تو دو گھڑی کا اندھیرا ہے اور میں ایک زمانہ سے اندھیرا دیکھ رہا ہوں اور دکھ اٹھا رہا ہوں تَلِجُ السحابَ لِتَبْكِيَنَّ تألُّمًا والصبر خيرٌ للمصاب وأصوب | تو بادل میں داخل ہوتا ہے تا کہ درد دل سے رو دے اور مصیبت زدہ کے لئے صبر کرنا بہتر ہے ذرفت عیونک والدموع تحدّرت من مثلك الأوّاب هذا أعْجَبُ تیرے آنسو جاری ہو گئے اور یہ تیرے جیسے اوّاب سے عجیب ہے هلا سألت مجربًا عند الأذى ولكلّ أمرٍ عقدة ومُجرِّبُ (٣٦) تو نے دکھ کے وقت کسی تجربہ کار کو کیوں نہ پوچھا اور ہر یک امر میں ایک عقدہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ایک تجربہ کار تبكى على هذا القليل من الدُّجى سـرنـا بجوف الليل يا مُتأوّبُ تو تھوڑے سے اندھیرے کے لئے روتا ہے ہم تو رات کی وسط میں پھر رہے ہیں اے رات کے ابتدا میں آنے والے أثنى على ربّ الأنام فإنه أبدى نظيرى في السماء فَأَطْرَبُ میں خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جو اس نے آسمان میں میرا نظیر ظاہر کیا