نورالحق حصہ دوم — Page 237
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۳۷ نور الحق الحصة الثانية وربما يختلج في قلبك أنّ القرآن لا يشير إلى رمضان، فاعلَمُ اور بسا اوقات تیرے دل میں یہ گذرے گا کہ قرآن رمضان کی طرف اشارہ نہیں کرتا پس جان أن الفرقان ذكره على الطريق المجمل المطوى، وهو كاف للبصير (٢٢) کہ قرآن نے مجمل طور پر خسوف کسوف کا ذکر کیا ہے اور وہ ایک بصیر زکی کے لئے کافی ہے الزكي، ولا حاجة إلى تفصيل وتبيين۔ اور کسی تفصیل کی حاجت نہیں ۔ وأما إذا سألت شيئًا عن تفصيله، فأعلمك أقل من قليله، لیکن اگر تو کچھ اس کی تفصیل چاہے سو میں کمتر از کم تجھے بتلاتا ہوں سو جان کہ فاعلم أن الله تبارك وتعالى أسس نظام الدين من رمضان، فإنه أنزل | خدا تعالیٰ نے دین کا نظام رمضان سے ہی باندھا ہے کیونکہ اس نے اس میں فيه القرآن، فلما ثبتت خصوصية هذا الشهر المبارك بنظام الدین، قرآن نازل کیا ہے پس جب کہ اس مہینہ کی خصوصیت نظام دین کے ساتھ ثابت ہوئی اور اسی مہینے میں وفيه ليلة القدر وهو مبدأ لأنوار الدين المتين، وثبت أن العناية | لیلة القدر ہے اور وہ مبدء دین کے انوار کا ہے اور ثابت ہوا کہ عنایت الہیہ الإلهية قد توجهت إلى نظام الخير فى رمضان وأجرت الفيضان، فبان رمضان میں ہی نظام خیر کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور ابتداء فیضان کا اسی مہینہ سے أن الله لا يتوجه إلى إعانة النظام في آخر أيام الظلام إلا فی ذلک ہوا پس اس سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اعانت نظام کے لئے تاریکی کے انتہا کے وقت الشهر المبارك للإسلام۔ وقد عرفت أن الانخساف والانكساف صرف رمضان میں ہی توجہ فرماتا ہے اور تو پہچان چکا ہے کہ خسوف اور کسوف توجة جمالي وتجلّ جلالي، وفيه أنوار لنشأة ثانية، وتبدلات روحانية | جمالی اور جلالی تجلی ہے اور یہ تجلی نشاة ثانیہ اور تبدلات روحانیہ کے لئے