نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 175

۱۷۵ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ وإنّا نُريكم فلا تنظرون ، ونعطيكم فلا تأخذون، وتفترون الكذب ولا اور ہم تمہیں دکھلاتے ہیں اور تم دیکھتے نہیں اور ہم تمہیں دیتے ہیں اور تم لیتے نہیں اور تم جھوٹ باندھتے ہو اور شرم نہیں تستحيون، وأيقظكم الموقظون فلا تستيقظون۔ ألا تتقون الذى إليه | کرتے اور تمہیں جگایا جاتا ہے اور تم جاگتے نہیں کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جس کی طرف تم پھیرے جاؤ گے یا ترجعون، أو ظننتم أنكم من المتروكين؟ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں چھوڑا جائے گا ۔ وقد قلتُ آنفا إن القرآن ما بين حال النصارى على نهج واحد، بل اور میں ابھی کہہ چکا ہوں کہ قرآن نے نصاریٰ کا حال ایک طور سے بیان نہیں کیا جعل بعضهم على بعض كشاهد، وقال إن بعضهم يعبدون المسيح | بلکہ بعض کو بعض کا گواہ ٹھہرا دیا ہے اور کہا کہ بعض مسیح کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو عمداً خدا ويتخذونه إلها عمدًا، وبعضهم يعبدون معه أُمَّه ويحمدونها حمدًا، وفيهم بنا رکھا ہے اور بعض اس کے ساتھ اس کی ماں کی بھی پرستش کرتے ہیں اور اس کی حمد میں مشغول ہیں اور تھوڑا سا فرقہ فرقة قليلة يعبدون الله ويحسبونه رحيما ورحمانًا، ويحسبون المسيح (۱۳۳) ایسا بھی ہے جو موحد ہے اور خدا تعالیٰ کو رحیم و رحمان سمجھتے ہیں اور مسیح کو صرف بشر اور انسان سمجھتے ہیں اور بشرًا وإنسانًا، وهذه الفرق الثلاثة كانوا فى عهد نبينا صلى الله عليه وسلم تینوں فرقے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے۔ اور موجودين، والقرآن قرء عليهم إلى قرون ومئين، فما قال أحد منهم أن القرآن صد ہا سال ان پر قرآن پڑھا گیا مگر کوئی ان میں سے معترض نہ ہوا کہ قرآن ہماری طرف ایسے عقائد منسوب کرتا ہے يعزو إلينا ما يخالف عقائدنا وتعاليم عمائدنا، ولا يفهم سر أقانيمنا، ويخطى | جو ہمارے عقائد کے مخالف ہیں اور کسی نے نہ کہا کہ قرآن ہمارے اقنوموں کے بھیدوں کو نہیں سمجھتا اور في بيان تعاليمنا و إن كنت تظن أنه قال أحد كمثل هذه الأقوال، أو وجدت ہماری تعلیموں کے بیان میں خطا کرتا ہے اور اگر تیرا گمان ہے کہ کسی نے ایسا کہا ہے یا تو نے کوئی ایسی