نورالحق حصہ اوّل — Page 36
روحانی خزائن جلد ۸ ۳۶ نور الحق الحصة الاولى آراؤها في أرض مقاصدها فتفرى أديم الأرضين، وكلُّ عقل عندها إلا نہیں کر سکتی جس وقت گورنمنٹ اپنے راؤں کو مقاصد کی زمین میں دوڑاتی ہے تو وہ رائیں روئے زمین کو کاٹتی ہوئی چلی عقل الدين۔ ونرجو أن يفتح الله عليها هذا الباب أيضا كما فتح أبوابا | جاتی ہیں اور ہر یک عقل بجز دینی عقل کے اس گورنمنٹ کو حاصل ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ أخرى، والله أرحم الراحمين یہ دروازہ بھی اس پر کھل جائے اور خدا ارحم الراحمین ہے۔ ولا يخفى على هذه الدولة المباركة أنا من خُدامها ونُصحائها اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور و دواعي خيرها من قديم، وجئناها في كل وقت بقلب صميم، وكان خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور لأبى عندها زُلفى وخطاب التحسين ولنا لدى هذه الدولة أيدى الخدمة | میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں ولا نظن أن تنساها في حين۔ وكان والدي الميرزا غلام مرتضی ابن اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا والد میرزا غلام مرتضی ابن میرزا عطاء محمد القادياني من نُصحاء الدولة وذوى الخُلّة وعندها میرزا عطا محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے من أرباب القُربة، وكان يُصدَّر على تكرمة العزة، وكانت الدولة تعرفه نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب غاية المعرفة۔ وما كُنا قط من ذوى الضّنّة، بل ثبت إخلاصنا في أعين پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام الناس كلهم وانكشف على الحاكمين، ولتسطلع الدولة حكّامها لوگوں کی نظروں میں ثابت ہوگیا اور حکام پر کھل گیا۔ اور سرکار انگریزی اپنے ان حکام