نورالحق حصہ اوّل — Page 166
۱۶۶ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى ذوى الأدب، أن أصل المرّة إحكامُ الفَتْل وإدارة الخيوط عند الوصل، تا کہ کو جب بٹ دے کر پختہ کرتے ہیں تو اس پختہ کرنے کا نام مترہ ہے اور مرہ کے معنوں کا اصل یہ ہے کہ اسقدر تا گہ من كما قال صاحب تاج العروس شارح القاموس ، ثم نقلوا هذا اللفظ کو بٹ چڑھایا جائے اور مروڑ ا جائے کہ وہ پختہ ہو جائے جیسا کہ یہی معنے صاحب تاج العروس شارح القاموس نے کئے الإحكام والإدارة إلى نتيجته أعنى إلى القوة والطاقة، فإن الحبل إذا ہیں پھر اس لفظ کو مروڑنے اور بٹ چڑھانے سے منتقل کر کے اس کے نتیجہ کی طرف لے آئے یعنی قوت اور طاقت کی أحكم قتله فلا بد من أن يتقوّى بعد أن يُشَدَ ويُسَوَّى، ويكون كشيء طرف جو بٹ چڑھانے کے بعد پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب تا گہ کو بٹ چڑھایا جاوے پس یہ ضروری امر ہے کہ بٹ قوى متين۔ ثم نُقِلَ منه إلى العقل كنقل الحقل إلى الحقل، لأن العقل چڑھانے کے بعد اس میں قوت اور طاقت پیدا ہو جائے اور ایک شے قوی متین ہو جائے۔ پھر یہ لفظ نقل کے معنوں کی (۲۲) طاقة تحصل بعد إمرار مقدمات وإحكام مشاهدات تُجلّيها الحش طرف منتقل کیا گیا جیسا کہ حقل کا لفظ جو بمعنی زمین خوش پاکیزہ ہے حقل یعنی کھیت نوسبزہ کی طرف منتقل ہو گیا کیونکہ المشترك من الحواس بإذن ربّ الناس وأحسن الخالقين۔ ثم نقل عقل بھی ایک طاقت ہے جو بعد محکم کر نے مقدمات اور پختہ کرنے مشاہدات کے پیدا ہوتی ہے اور حس مشترک هذا اللفظ فى المرتبة الرابعة إلى مزاج من الأمزجة أعنى الصفراء ان مشاہدات کو جو اس سے باذن رب الناس لیتی ہے ۔ پھر یہ لفظ بمرتبہ رابعہ ایک بدنی مزاج کی طرف منتقل کیا التي هي إحدى الطبائع الأربعة لشدّة قوتها ولطافة مادتها، ولكونها گیا یعنی صفرا کی طرف جو طبائع اربعہ میں سے ایک ہے کیونکہ صفرا اپنی شدت اور قوت اور لطافت میں باقی مصدر أفعال قويّة وموجبًا لجُرأة وشجاعة وكلّ أمر يخالف عاداتِ | اخلاط سے بڑھ کر ہے اسی واسطے صاحب اس کا مصدرا فعال قویہ اور جری اور شجاع ہوتا ہے اور اس سے ایسے الجبان ويوافق سِير الشجعان، فتفكر إن كنتَ من الطالبين۔ امر صادر ہوتے ہیں جو بزدلی کے مخالف ہیں پس تو فکر کر اگر طالب حق ہے۔