نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 133

۱۳۳ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى فاتق ربَّ العباد وفكَّرُ لطلب السَّداد، مجتهدًا لتحصيل الرشاد، سو خدا سے ڈر اور حق الامر کے ڈھونڈھنے کی فکر کر مگر اس فکر میں و تارگا سبل الرقاد وجاهدًا، هل يكون النازل والمنزل عليه شيئا کوشش کر اور نیند کی راہوں سے الگ ہو کیا نازل اور منزل علیہ ایک ہی چیز ہو سکتے ہیں واحدا؟ كلا بل لا بد من أن يكونا شيئين متغائرين، كما لا يخفى على بلکہ یہ بات ضروری ہے مر وہ دو متغائر چیزیں ہیں جیسا کہ عقلمندوں پر ذي الـعـيـنـيـن، وعلى سائر العاقلين۔ فأي دليل أكبر من هذا لقوم | پوشیدہ نہیں۔ پس منصفوں کے لئے اس سے بڑھ کر اور کونسی دلیل ہوگی وہ منصف جو منصفين، الذين ينثالون إلى الحق موجفين، ولا يتركون الصراط كعمين؟ حق کی طرف متوجہ ہوکر دوڑتے ہیں اور راہ کو اندھوں کی طرح نہیں چھوڑتے اور کونسا فرق ان دو روحوں میں ہے وأى فرق في الروح النازل على عيسى والروح الذي أعطى لموسى كليم جو حضرت عیسی اور حضرت موسى پر نازل ہوئیں رب العالمين؟ ألا تتفكرون يا معشر الظالمين وتسقطون على أراجيف اے ظالمو ! کیا تم کچھ بھی فکر نہیں کرتے اور جھوٹوں کی خبروں پر گرے جاتے ہو۔ کیا تم الكاذبين؟ ألا تقرأون فى التوراة الإصحاح الحادى عشر ما قيل إنه قول تو رات کے گیارہویں باب میں وہ کلام نہیں پڑھتے جس میں کہا گیا ہے کہ اس خدا کا کلام ہے جو اپنی باتوں میں سب أصدق القائلين، وهو أن الربّ قَالَ لِمُوسى فأنزلُ وأنا أتكلم معك (١٠) سے بڑھ کر سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ رب نے موسیٰ کو کہا کہ میں اتروں گا اور تجھ سے کلام کروں گا اور اس وآخذ من الروح الذى عليك وأضع عليهم، أى على أكابر أمته، وهم روح میں سے لوں گا جو تجھ پر ہے اور ان پر ڈالوں گا یعنی بنی اسرائیل کے اکابر پر جو ستر آدمی كانوا سبعين۔ وكذلك نزل هذا الروح على جد عیسی و مُرشده داؤد | تھے۔ اور اسی طرح روح حضرت عیسے کے دادے اور اس کے مرشد کیٹی پر بھی نازل ہوئی