نورالحق حصہ اوّل — Page 120
۱۲۰ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ منهم خبيث مفسد متفاحش أُخبرتُ عنه وليتنى لم أخبر ان میں سے ایک خبیث مفسد بدگو دشنام دہ ہے مجھے اس کی اطلاع دی گئی ہے کاش کہ نہ دی جاتی یعنی اس کا وجود ہی نہ ہوتا غول يسبّب نبيَّنا خير الورى لُكَع وليــس بـعـالم متبحر ایک شیطان ہے جو ہمارے نبی افضل المخلوقات کو گالیاں دیتا ہے سفلی نادان فرومایہ اور ایسانہ ہے کوئی عام تر حقائق کی تک پہچنے والاہو يا غُول بادية الضلالة والهوى تهذى هوى من غير عين تبصر اے گمراہی اور حرص کے جنگل کے شیطان تو محض ہوا پرستی سے بکواس کر رہا ہے اور معرفت کی آنکھ تجھ کو حاصل نہیں قطعت قلب المسلمين جميعهم كم صارم لک یا عبيط و خنجرِ تو نے تمام مسلمانوں کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اے درد کو جنگجو ہیں تو اتنا کہ تیرے پاس کتنی تلواریں اور بنجر ہیں إنا تصبرنا على إيذائكم والنفس صارخة ولم تتصبر ہم نے تو تمہارے دکھ دینے پر تکلف صبر کیا مگر جان فریاد کر رہی ہے اور صبر نہیں کر سکتی إنا نرى فتنا تذيب قلوبنا إنا نرى صورا تهولُ بمنظر ہم وہ فتنے دیکھ رہے ہیں جو دلوں کو گلاتے ہیں ہم وہ منہ دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ڈراتے ہیں جاء واكمفترس بناب داعس دحــســا كـكـلـب نـابـح متشدّرِ وہ ایک شکار مارنے والے کی طرح نیزہ مارنے والے دانتوں قوم میں تفرقہ ڈالنے والے ہیں اس کتے کی طرح جو آواز کرتا اور حملہ کرنے کے لئے اپنی دم اکٹھی کر لیتا ہے کے ساتھ آئے وہ تو بھیڑیئے تھے سو كانوا ذيابًا ثم وجدوا سَخُلةً في البـر مـنـفـردًا أسير تحشر انہوں نے جنگل میں ایک اکیلا بره پایا جو ماندگی کا مارا ہوا تھا وترى بطون المفسدين كأنها قرب بما نالوا كمال تعجر اور مفسدوں کے پیٹوں کو تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ مشکیں ہیں کیونکہ پیٹ اتنے بڑھ گئے کہ ان میں بل پڑتے ہیں حاذت مـطـايـاهـم عـلـى أعناقنا حتـى تـكــــرنـا كعظـم أنخَرِ انہوں نے اپنی سواریوں کو ہماری گردنوں پر سخت دوڑایا یہاں تک کہ ہم بوسیدہ ہڈی کی طرح ہوگئے فاض العيون من العيون كأنها ماء جرى من عَندَمٍ متعصرِ آنکھوں دم الاخوین کا پانی ہے جو اس کے نچوڑنے کے وقت چک رہا ہے چشمے جاری ہوگئے گویا کہ وہ