نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 87

روحانی خزائن جلد ۸ ۸۷ نور الحق الحصة الاولى أخــــدنـا السـب منهم مثل دين وعزتنا لديهم كالرهان ان کی گالیاں ہمارے ذمہ قرض کی طرح ہیں اور ہماری عزت ان کے پاس گرو کی طرح ہے سنغشيهم ببرهان كعَضُبِ رقيـــــق الـشـــــــرتين أخ السنـانِ ہم عنقریب دلیل کی تلوار کے ساتھ ان کے سر پر پہنچیں گے جو باریک کناروں والے نیزہ کا بھائی ہے بفأس نختلى تلك الخلاتا ورمح ذابل وقنا البيان ہم اس گھاس کو دلائل کے تبر کے ساتھ کاٹیں گے اور نیز برچھی باریک نوک والی اور بیان کے نیزوں سے بجمجمة العدا قد حلَّ غُولٌ فنــخــرجــــــه بـآيـــات المثاني ان دشمنوں کی کھوپڑی میں ایک بھوت داخل ہو گیا ہے سو ہم اس کو سورۃ فاتحہ سے نکالیں گے لنا دين ودنيا للنصارى ومَقْتُ الـضـرتـــيــن مـن العــــان ہمارے حصہ میں دین آیا اور نصاری کے حصہ میں دنیا سو یہ دوسوتوں کی دشمنی ہے جس کی حقیقت ہر ایک کے چشم دید ہے سئمنا كل نوع الضيم منهم ولكـن سبــــهـم صلـى جـــــانــي ہم نے ہر ایک ظلم ان کا اٹھا لیا مگر ان کی گالیوں نے ہمارا سعوا أن يجعلوا أسدًا نِعاجا وليت الله ليت لا كضان (۶۴) انہوں نے کوشش کی کہ تا کسی طرح شیروں کو بھیڑیں بنائیں اور شیر شیر ہی ہیں وہ بھیٹر کی طرح نہیں ہو سکتے ووتبتهم كسرحان ضَرِى وصورتهم كذى حُبِّ مُقان اور ان لوگوں کا حملہ اس بھیڑیے کی طرح ہے جو شکار کا طالب ہے اور صورت ان کی ایک ملنسار دوست کی طرح ہے وباطنهـم كـجـوف العير قَفُرّ من التقوى وبطن كالجفان اور اندران کا گدھے کے پیٹ کی طرح تقوی سے خالی اور پیٹ ان پیالوں کی طرح ہے جو کھانے سے بھرے ہوئے ہوں أرى وَغُلَا جَهُولًا وابنَ وَغُلٍ يُرِى كـالـمـرهـفات لظى اللسان جلایا ہے میں ایک خسیس ابن خسیس جاہل کو دیکھتا ہوں جو تیز تلواروں کی طرح اپنی زبان کا شعلہ دکھاتا هرير الكلب لا يحثو بنبح على البدر المطهر من عُثانِ کتے کی آواز اس چاند پر خاک نہیں ڈال سکتی جس کو خدا نے گردوغبار اور دھوئیں سے پاک پیدا کیا ہے