نسیمِ دعوت — Page 463
۴۶۱ نسیم دعوت روحانی خزائن جلد ۱۹ اس قد را افترا کرتے ہیں۔ سارا قرآن اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ خدا ہر ایک چیز کا بالذات علم رکھتا ہے۔ پس ہم اس افترا کا کیا نام رکھیں کہ گویا مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا کو کچھ بھی اپنی مخلوق کی خبر نہیں جب تک فرشتے جا کر رپورٹ نہ دیں۔ (۳) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ خدا پہلے کچھ مدت تک بریکار رہا ہے کیونکہ دنیا ہمیشہ سے نہیں۔ الجواب: یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہر گز نہیں ہے کہ انسان کے پیدا کرنے سے پہلے خدا بریکار تھا بلکہ وہ بار بار قرآن شریف میں کہتا ہے کہ میں قدیم سے خالق ہوں مگر اس بات کی تفصیل کہ وہ کس کس مخلوق کو پیدا کرتا رہا ہے یہ امر انسان کے احاطہ اقتدار سے باہر ہے۔ ہم قرآن کی رو سے ایمان رکھتے ہیں کہ وہ کبھی معطل نہیں رہا مگر اس کی تفصیل کو ہم نہیں جانتے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اس نے کتنی مرتبہ اس دنیا کو بنایا اور کتنی مرتبہ ہلاک کیا یہ لمبا اور غیر متناہی علم خدا کو ہے کسی دفتر میں یہ سما نہیں سکتا ہاں عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صرف چند مدت سے خدا نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ پہلے کچھ نہ تھا اور قدیم سے وہ خالق نہیں ہے۔سو یہ اعتراض ان پر کرو اور پھر آپ لوگوں کو شرم کرنا چاہئے کہ ہم تو مانتے ہیں کہ ہمارا خدا قدیم سے ذراتِ اجسام پیدا کرتا رہا اور قدیم سے روحیں بھی پیدا کرتا رہا مگر آپ لوگ تو قطع نظر قدیم کے ایک مرتبہ کے لئے بھی خدائے تعالیٰ کی ان صفات کو نہیں مانتے پھر کیوں اپنے گھر سے بے خبر رہ کر اسلام پر محض افترا کے طور پر اعتراض کر دیتے ہیں ورنہ حیا اور شرم کر کے قرآن شریف سے ہمیں دکھلا دو کہ کہاں لکھا ہے کہ میں قدیم سے خالق نہیں ہوں مگر آپ کا پر میشر تو بجز معمار یا نجار کی حیثیت سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتا اور کیونکر معلوم ہوا کہ وہ عالم الغیب ہے اس کا وید میں کیا ثبوت ہے ذرا ہوش سے جواب دو۔ (۴) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ مسلمانوں کا خدا متغیر ہے کبھی کوئی حکم دیتا ہے کبھی کوئی۔ (۸۹) الجواب : خدا آپ لوگوں کو ہدایت دے۔ قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا متغیر ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ انسان متغیر ہے اس لئے اس کے مناسب حال خدا اس کے لئے تبدیلیاں کرتا ہے۔