نسیمِ دعوت — Page 462
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶۰ نسیم دعوت ہمیشہ رہیں گے ورنہ ہم کہتے ہیں کہ اگر تم قرآن شریف کی ایک بات کو بھی رد کر سکو تو جو تاوان چا ہو ہم پر لگا لو خواہ تم تمام جائداد ہماری لے لو مگر کیا کسی کی نیت ہے کہ آرام سے اور آہستگی سے جیسا کہ عدالت میں مقدمات فیصلہ پاتے ہیں کسی چیز کا فیصلہ کرے ہرگز نہیں پس صبر کرو جب تک خدا ہمارا تمہارا فیصلہ کرے۔ (۲) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ فرشتے خدائے تعالی کو جا کر نیکی بدی کی خبر دیتے ہیں اور اس وقت تک وہ بے خبر ہوتا ہے۔ الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ العنة الله على الكاذبين ورنہ کھول کر دکھلاؤ کہ کہاں قرآن شریف میں لکھا ہے کہ میں مخلوق کے حال سے بے خبر ہوں جب تک کوئی فرشتہ مجھے خبر نہ دے ۔ وہ تو بار بار قرآن شریف میں کہتا ہے کہ ذرہ ذرہ کی مجھے خبر ہے ۔ ایک پتہ بھی میرے حکم کے بغیر نہیں گرتا ۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ یہ کس قسم کی روحیں ہیں کہ دلیری سے بقیه حاشیه شاخ ہیں وہ چارہی ہیں کیونکہ کام بھی چارہی ہیں۔ پس قرآن شریف کی پہلی غرض یہی تھی کہ وید وغیرہ مذاہب کے دیوتاؤں کو نیست و نابود کرے اور ظاہر کرے کہ یہ لوگوں کی غلطیاں ہیں کہ اور اور چیزوں کو دیوتا یعنی رب النوع بنا رکھا تھا بلکہ یہ چار صفتیں خاص خدا تعالیٰ کی ہیں اور ان چار صفتوں کے عرش کو خادموں اور نوکروں کی طرح یہ بیجان دیو تے اُٹھا ر ہے ہیں چنا نچہ کسی نے کہا ہے۔ حمد را با تو نسبتی است درست بر در هر که رفت بر در تست پس یہ اعتراض کہ آریہ صاحبان ہمیشہ سے کرتے ہیں یہ تو در حقیقت ان کے ویدوں پر اعتراض ہے کیونکہ مسلمان تو اس خدا کی پرستش کرتے ہیں جو مخدوم ہے مگر آریہ صاحبان ان جھوٹے دیوتاؤں کو خدا سمجھ رہے ہیں جو خادموں اور نوکروں چاکروں کی طرح خدا تعالیٰ کی صفات اربعہ کا عرش اپنے سر پر اٹھا رہے ہیں بلکہ وہ تو چاکروں کے بھی چاکر ہیں کیونکہ ان پر اور طاقتیں بھی مسلط ہیں جو ملائک کے نام سے موسوم ہیں جو ان دیوتاؤں کی طاقتوں کو قائم رکھتے ہیں جن میں سے زبان شرع میں کسی کو جبرائیل کہتے ہیں اور کسی کو میکائیل اور کسی کو عزرائیل اور کسی کو اسرافیل اور سناتن دھرم والے اس قسم کے ملائک کے بھی قائل ہیں اور ان کا نام تم رکھتے ہیں۔ منہ