نسیمِ دعوت — Page 444
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۴۲ نسیم دعوت ☆ چاہیے تھا کہ نئی پیدا ہونے والی کو اس بات کا علم دے دیتا کہ وہ فلاں فلاں شخص سے پہلے (۷۴) جنم میں یہ رشتہ رکھتا تھا تا بد کاری تک نوبت نہ آتی۔ اس جگہ یادر ہے کہ تناسخ کا مسئلہ اپنی جڑھ سے باطل ہے وہ تب سچ ہوسکتا ہے جب یہ بات سچ ہو کہ رُوح دوٹکڑے ہو کر کسی ساگ پات پر گرتی ہے اور پھر غذا کی طرح کھائی جاتی ہے مگر بیشی کمی مراتب کی تاریخ پر دلیل نہیں۔ یہ اختلاف مراتب تو بے جان چیزوں میں بھی پایا جاتا ہے اس وسوسہ کا جواب یہی ہے کہ قیامت کے دن کم حصہ والے کو پورا حصہ دیا جائے گا اور زیادہ حصہ والے سے حساب کیا جائے گا پس چند روزہ دنیا کی کمی بیشی تناسخ پر کیونکر دلیل ہو سکتی ہے۔ اور نیوگ کے جواب میں یہ کہنا کہ مسلمانوں میں بھی متعہ ہے یہ عجیب جواب ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آریہ صاحبوں نے متعہ کس چیز کو سمجھا ہوا ہے۔ پس واضح ہو کہ خدا نے قرآن شریف میں بجز نکاح کے ہمیں کوئی اور ہدایت نہیں دی ہاں شیعہ مذہب میں سے ایک فرقہ ہے بقیه حاشیه: یہ امر ستلزم تقسیم روح ہے۔ اور تقسیم روح باطل ہے ۔ اس لئے تناسخ باطل ہے۔ اور آزمائش کے طور پر یہ مسئلہ اس طرح پر غلط ٹھہرتا ہے کہ جس طرح ہر قسم کی روحیں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ ان تمام صورتوں میں ممکن ہی نہیں کہ شبنم کے ساتھ وہ روحیں پیدا ہوتی ہوں۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ بالوں میں جوئیں پڑ جاتی ہیں وہ روحیں کس شبنم کے ساتھ کھائی جاتی ہیں۔ ایسا ہی کنگ کے کھاتوں میں سُسر کی پڑ جاتی ہے۔ وہ کروڑ ہارو میں جو کھاتہ کے اندر پیدا ہو جاتی ہیں وہ کس شبنم کے ساتھ کھاتہ کے اندر اترتی ہیں اور کون ان کو کھاتا ہے۔ ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ پیٹ میں کدو دانے پیدا ہوتے ہیں اور کبھی کبھی دماغ میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اور طبعی علم کے تجربہ سے پانی کے ہر ایک قطرے میں ہزار ہا کیڑے ثابت ہوتے ہیں۔ یہ کس شبنم سے پڑتے ہیں۔ تجر بہ بتلا رہا ہے کہ ہر ایک چیز میں ایک قسم کے کیرہ کا مادہ موجود ہے۔ پشینہ میں بھی ایک قسم کا کیڑہ لگ جاتا ہے لکڑی میں بھی اناج میں بھی پھلوں میں ۷۵ بھی اور بعض پھلوں میں پھل کی پیدائش کے ساتھ ساتھ ہی کیڑا پیدا ہوتا ہے جیسا کہ گولر کا درخت وہ کس حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” رکھتی تھی “ ہونا چاہیے۔(ناشر )