نسیمِ دعوت — Page 443
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۴۱ نسیم دعوت سے ناجائز تعلق رکھتے ہیں جب کسی آشنا کنجری کی نسبت ان کو شک پڑتا ہے کہ وہ دوسرے کے پاس ۷۳) گئی تو بسا اوقات غصہ میں آکر اس کا ناک کاٹ دیتے ہیں یا قتل کر دیتے ہیں تو پھر کیا عقل قبول کر سکتی ہے کہ ایک غیر تمند آریہ کی عورت ایسے کام کرے تو وہ لوگوں کو منہ دکھانے کے قابل رہے۔ اسی اصول سے تو دنیا میں صریح بدکاری پھیلتی ہے اور آخر حکام کو بھی ان گندے اصولوں کے روکنے کے لئے دخل دینا پڑتا ہے جیسا کہ گورنمنٹ انگریزی نے ابتداء حکومت میں ہی جل پر وا اور ستی کے رواج کو جبر ابٹا دیا تھا۔ اسی طرح تناسخ کا مسئلہ بھی اگر صحیح فرض کیا جاوے تو اسی خرابی کا موجب ہوگا جیسا کہ نیوگ ۔ کیونکہ اس صورت میں کروڑہا دفعہ یہ واقعہ پیش آجائے گا کہ ایک شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کرے کہ جو دراصل اس کی ماں تھی یا دا دی تھی پالڑ کی تھی جو مر چکی تھی اور پھر وہ دوبارہ جنم لے کر دنیا میں آئی۔ پس اگر اواگون کا مسئلہ صحیح تھا تو اتنا تو پر میشر کو کرنا لا حاشیه تایخ کے مسئلہ جیسا اور کوئی جھوٹا مسئلہ نہیں کیونکہ اس کی بنیاد بھی غلط ہے اور آزمائش کے طور پر بھی یہ غلط ثابت ہوتا ہے اور انسانی پاکیزگی کے لحاظ سے بھی غلط ٹھہرتا ہے اور خدا کی قدرت میں رخنہ انداز ہونے کی وجہ سے بھی ہر ایک عارف کا فرض ہے جو اس کو غلط سمجھے۔ اس کی بنیاد اس طرح پر غلط ہے کہ ستیارتھ پر کاش میں اتلا یا گیا ہے کہ روح عورت کے پیٹ میں اس طرح آتی ہے کہ شبنم کے ساتھ کسی ساگ پات پر پڑتی ہے اور اس ساگ پات کے کھانے سے روح بھی ساتھ کھائی جاتی ہے ۔ پس اس سے تو لازم آتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہو کر زمین پر پڑتی ہے ۔ ایک ٹکڑے کو اتفاقا مردکھالیتا ہے اور دوسرے ٹکڑے کو عورت کھاتی ہے کیونکہ یہ ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ بچہ کو روحانی قوتیں اور روحانی اخلاق مرد اور عورت دونوں سے ملتے ہیں نہ کہ صرف ایک سے ۔ پس دونوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے ساگ پات کو کھاویں جس میں روح ہو اور صرف ایک کا کھانا کافی نہیں ۔ پس بداہت ۷۴ نیوگ کی کثرت عورتوں کے لئے اس وجہ سے بھی مضر ہے کہ اس سے حجاب اُٹھ جائے گا اور چند سال بیگانہ کے پاس جا کر پھر ہمیشہ کے لئے یہی عادت رہے گی ۔ منہ