نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 566

نسیمِ دعوت — Page 430

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۸ نسیم دعوت با تیں ثابت نہیں تو الزام ثابت ہے۔ پھر ایک اور اعتراض آریہ صاحبوں کے اصول پر ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس پر بھی توجہ کریں گے اور وہ یہ ہے کہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ گو دنیا کے لئے ایک ازلی اور ابدی سلسلہ ہے جو بھی ختم نہیں ہوتا لیکن پرمیشر نے قدیم سے یہی طریق مقرر کر رکھا ہے کہ ہمیشہ وہ سنسکرت زبان میں اور آریہ ورت میں آسمانی کتاب پیدائش کے ابتدا میں بھیجتا رہتا ہے۔ یہ مقولہ تین طور سے غلط ہے۔ اول خدا تعالیٰ کی رحمت عامہ کے برخلاف ہے یعنی جس حالت میں دنیا میں مختلف بلاد اور مختلف زبانیں پائی جاتی ہیں اور ایک ملک کے باشندے دوسری قوم کی زبان سے نا آشنا ہیں بلکہ اس زمانہ سے پہلے تو یہ حالت رہی ہے کہ ایک ملک دوسرے ملک کے وجود سے بھی بے خبر تھا اور آریہ ورت میں یہ خیال تھا کہ ہمالہ پہاڑ کے پرے کوئی آبادی نہیں تو اس صورت میں جبکہ دنیا کے تفرقہ کی یہ صورت تھی ہمیشہ اور کروڑ ہا برسوں سے آسمانی کتاب کو ایک ہی ملک تک محد و در کھنا یہ خدا کی اس رحمت کے برخلاف ہے جو اس کے ربّ العالمين ہونے کی شان کو زیبا ہے اور اس کے برخلاف جو قرآن شریف نے فرمایا ہے۔ وہ نہایت معقول اور قرین انصاف ہے اور وہ یہ کہ وہ فرماتا ہے ۔ وإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ ! یعنی کوئی بہتی اور کوئی آباد ملک نہیں جس میں پیغمبر نہیں بھیجا گیا اور پھر فرماتا ہے۔ يَتْلُوا صحفًا مُطَهَّرَةٌ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ یعنی یه کتاب جو قرآن شریف ہے یہ مجموعہ ان تمام کتابوں کا ہے جو پہلے بھیجی گئی تھیں۔ اس آیت سے مطلب یہ ہے کہ خدا نے پہلے متفرق طور پر ہر ایک امت کو جداجدا دستور العمل بھیجا اور پھر چاہا کہ جیسا کہ خدا ایک ہے وہ بھی ایک ہو جائیں تب سب کو اکٹھا کرنے کے لئے قرآن کو بھیجا اور خبر دی کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ خدا تمام قوموں کو ایک قوم بنا دے گا اور تمام ملکوں کو ایک ملک کر دے گا اور تمام زبانوں کو ایک (۶۲) زبان بنا دے گا سو ہم دیکھتے ہیں کہ دن بدن دنیا اس صورت کے قریب آتی جاتی ہے اور فاطر: ۲۲۵ البينة : ۴۳