نسیمِ دعوت — Page 396
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۴ نسیم دعوت علم حاصل ہو گیا ہے جو اس دہقان کو حاصل نہیں ۔ دیکھو ہمیشہ شفا خانوں میں بیماروں کے لئے خدمت کرنے والے اور قے وغیرہ موجود ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر کس کس قسم کے اپریشن کرتا ہے لیکن اگر وہ آپ کرنے لگیں تو بیشک کسی انسان کا خون کر دیں گے پس اس میں کچھ شک نہیں کہ عملی مزاولت میں ایک خاص علم ہو جاتا ہے کہ دوسرے کو نہیں ہوسکتا اسی طرح آریہ صاحبوں کو اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ اگر ان کا پر میشر روحوں اور ذرات عالم کا خالق ہوتا تو اس کا علم موجودہ حالت سے بہت زیادہ ہوتا۔ اسی اقرار سے یہ بھی ان کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ان کے پرمیشر کا علم ناقص ہے کیونکہ بنانے والا اور نہ بنانے والا حقیقت (۳۰) شناسی میں برابر نہیں ہو سکتے اور خود جب مان لیا جائے کہ پر میشر نے نہ روحوں کو بنایا نہ ان کی قوتوں کو اور نہ ان کی خاصیتوں کو اور نہ پر مانو یعنی ذرات اجسام کو بنایا اور نہ ان کی قوتوں اور خاصیتوں اور گنوں کو تو اس پر کیا دلیل ہے کہ ایسے پر میشر کو ان قوتوں اور خاصیتوں اور گنوں کا علم بھی ہے یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کو علم ہے کیونکہ محض عقیدہ پیش کرنا کوئی دلیل نہیں ہے اور بفرض محال اگر کسی قدر علم مان بھی لیں تو وہ علم اس علم کے برابر کب ہو سکتا ہے کہ اس حالت میں ہوتا کہ جبکہ پر میشر نے روحوں اور ذرات عالم اور ان کی قوتوں اور خاصیتوں کو اپنے ہاتھ سے بنایا ہوتا کیونکہ تمام عقلمندوں کی یہ مانی ہوئی بات ہے کہ بنانے والے اور نہ بنانے والے کا علم برابر نہیں ہوتا جیسا کہ ابھی ہم اوپر بیان کر چکے ہیں لیکن قرآن شریف ہمیں سکھلاتا ہے کہ وہ روحوں اور ذرات عالم کی تمام اندرونی کیفیتیں اور قوتیں اور خاصیتیں جانتا ہے اور قرآن شریف میں خدا فرماتا ہے کہ میں اس لئے اندرونی حالات ارواح اور ذرات کے جانتا ہوں کہ میں ان سب چیزوں کا بنانے والا ہوں لیکن وید کا پر میشر کوئی دلیل نہیں دیتا کہ بلا تعلق اور بلا واسطہ کیوں اور کس وجہ سے ارواح کی پوشیدہ قوتوں اور گنوں اور خواص کا اس کو علم ہے اور ایسا ہی کیوں اور کس طرح ذرات اجسام کے نہاں در نہاں خواص اور طاقتوں اور گنوں پر اس کو اطلاع ہے۔