نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 566

نسیمِ دعوت — Page 395

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۳ نسیم دعوت یہ بات مسلّم اور مقبول ہے کہ جو بنانے والے کو ایک قسم کا علم ہوتا ہے وہ دوسرے شخص کو نہیں ہوسکتا اگر چہ وہ خیال بھی کرے کہ میں علم رکھتا ہوں تب بھی اس کا وہ خیال غلط ہے اور دراصل ایک قسم کی نا واقعی کا پردہ اس پر ضرور رہتا ہے مثلاً ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ روٹی اس طرح پکاتے ہیں اور ہمارے رو برو وہ روٹی بنائی جاتی ہے اور عمدہ اور لطیف پھلکے اور نان اور کلچے تیار ہوتے ہیں لیکن اگر ہم کبھی اپنے ہاتھ سے یہ کام کرنا چاہیں تو اول غالباً یہی ہوگا کہ ہم گوندھنے کے وقت آئے کو ہی خراب کریں گے اور وہ پتلا ہو کر روٹی پکانے کے لائق ہی نہیں رہے گا یا گاڑہ اور سخت ہو کر اس کام کے نا قابل ہوگا اور یا اس میں آٹے کی گلٹیاں پڑ جائیں گی۔ اور اگر ہم نے مطلب کے موافق آٹا گوندھ بھی لیا تو پھر روٹی ہم سے ہرگز درست نہیں آئے گی غالبا بیچ میں اس کے ایک مکی رہے گی اور گرد اس ۲۹ کے کے بڑے بڑے کان نکل آئیں گے اور کسی جگہ سے پتلی اور کسی جگہ سے موٹی اور کسی جگہ سے کچی اور کسی جگہ سے سڑی ہوئی ہوگی پس کیا سبب ہے کہ باوجود ہر روزہ مشاہدہ کے ہم صاف روٹی پکا نہیں سکیں گے اور باوجود یکہ وقت بہت خرچ کریں گے لیکن کام بگاڑ دیں گے اس کا یہی سبب ہے کہ ہمارے پاس وہ علم نہیں کہ جو اُس شخص کو علم ہے جو ہمیں برس سے ہر قسم کی روٹیاں اپنے ہاتھ سے پکا رہا ہے۔ اسی طرح دیکھ لو کہ تجربہ کار ڈاکٹر کیسے کیسے نازک اپریشن کرتے ہیں یہاں تک کہ گردہ میں سے پتھریاں نکال لیتے ہیں اور بعض ڈاکٹروں نے انسان کے سر کی بیکار اور زخم رسیدہ کھوپڑی کو کاٹ کر اسی قدر حصہ کسی اور جانور کی کھوپڑی کا اس سے پیوست کر دیا ہے اور دیکھو وہ کیسی عمدگی سے بعض نازک اعضا کو چیرتے ہیں یہاں تک کہ انتڑیوں میں جو بعض پھوڑے پیدا ہوتے ہیں نہایت صفائی سے ان پر بھی عمل جراحی کرتے ہیں اور نزول الماء کے موتی کو کیسی صفائی سے کاٹتے ہیں اب اگر یہی عمل ایک دہقان بغیر تجربہ اور علم کے کرنے لگے تو اگر آنکھوں پر کوئی نشتر چلا دے تو دونوں ڈیلے نکال دے گا اور اگر پیٹ پر چلاوے تو وہیں بعض اعضاء کو کاٹ کر زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔ اب ظاہر ہے کہ اس دہقان اور ڈاکٹر میں فرق صرف علم کا ہے کیونکہ ڈاکٹر کو کثرت تجر بہ اور عملی مزاولت سے ایک قسم کا