نسیمِ دعوت — Page 379
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷۷ نسیم دعوت مخمس کہیں تو بجا ہے کیونکہ اس کے ساتھ جسم بھی ہمیشہ ہی رہے گا لیکن اب تک اس بات کا جواب نہیں دیا گیا کہ اس خدا کا وہ جسم جو ختنہ کے وقت اس سے علیحدہ کیا گیا تھا اور وہ جسم جو تحلیل ہوتا رہا اور یا ہمیشہ ناخنوں اور بالوں کے کٹانے کی وجہ سے کم ہوتا رہا کیا وہ بھی کبھی اس جسم کے ساتھ شامل کیا جائے گا یا ہمیشہ کے لئے اس کو داغ جدائی نصیب ہوا۔ ہر ایک عظمند کو معلوم ہے کہ یہ علم طبعی کا مسلم اور مقبول اور تجربہ کردہ مسئلہ ہے کہ تین برس تک پہلا جسم (۱۳) تحلیل پا کر نیا جسم اس کی جگہ آجاتا ہے اور پہلے ذرات الگ ہو جاتے ہیں پس اس حساب سے تینتیس برس کے عرصہ میں حضرت مسیح کے گیارہ جسم تحلیل پائے ہوں گے اور گیا راہ نئے جسم آئے ہوں گے اب طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ گیارہ مفقودشدہ جسم پھر حضرت مسیح کے موجودہ جسم کے ساتھ شامل ہو جائیں گے یا نہیں اور اگر نہیں شامل ہوں گے تو کیا بوجہ کسی گناہ کے وہ علیحدہ رکھنے کے لائق تھے یا کسی اور وجہ سے علیحدہ کئے گئے اور اس ترجیح بلا مرج کا کیا سبب ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اس موجودہ جسم کو دور کر کے وہی پہلے جسم حضرت مسیح کو دیئے جائیں۔ اور کیا وجہ کہ جبکہ گیارہ دفعہ اس بات کا تجربہ ہو چکا ہے کہ حضرت مسیح تمام انسانوں کی طرح تین برس کے بعد نیا جسم پاتے رہے ہیں اور تینتیس برس تک گیارہ نئے جسم پاچکے ہیں تو پھر کیوں اب باوجود دو ہزار برس گزرنے کے وہی پرانا جسم ان کے ساتھ لازم غیر منفک رہا اگر اس جسم کے غیر فانی بننے کی وجہ ان کی خدائی ہے تو ان پہلے دنوں میں بھی تو خدائی موجود تھی جبکہ ہر ایک تین برس کے بعد پہلا چولہ جسم کا وہ اُتارتے رہے ہیں اور وہ جسم جو خدائی کا ہمسایہ تھا خاک و غبار میں ملتا رہا تو کیوں یہ موجودہ جسم بھی ان سے الگ نہیں ہوتا۔ پھر یہ بھی ذرہ سوچو کہ انسان کے جسم کے پہلے ذرات اس سے الگ ہو جانا تو کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ رحم سے نکلتے ہی ایک حصہ اس کے جسم کے زواید کا الگ کرنا پڑتا ہے اور ناخن اور بال ہمیشہ کٹانے پڑتے ہیں اور بسا اوقات بباعث بیماری بہت دبلا ہو جاتا ہے اور پھر کھانے پینے سے