نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 566

نسیمِ دعوت — Page 377

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷۵ نسیم دعوت جو عد ا خود کشی نہ کرنا چاہیں بکثرت پیدا کر رکھی ہیں اسی طرح اس نے روحانی زندگی کے لئے اپنی ہدایت کے طریقوں کو انسانوں کے لئے بہت سہل و آسان کر دیا ہے تا انسان اس مختصر عمر میں ۱۲ فوق الطاقت مشکلات میں نہ پڑیں اور امور ثلاثہ جو ہم نے اُوپر ذکر کئے ہیں۔ ان کے لئے ایک عمر خرچ کرنے اور عالم فاضل بننے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک حامی مذہب جو اپنے اصول شائع کرتا ہے انہیں اصولوں سے پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ اس معیار کے موافق ہیں یا نہیں اور اگر وہ اپنے اصولوں کے بیان کرنے میں کچھ جھوٹ بولے یا کسی بات کو چھپاوے تو وہ خیانت پوشیدہ نہیں رہ سکتی کیونکہ علمی زمانہ ہے اور صدہا پہلو ایسے ہیں جن سے حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اب جبکہ مذکورہ بالا بیانات سے بہداہت ثابت ہے کہ تبدیل مذہب کے لئے ہرگز ایسی ضرورت نہیں کہ کسی دین کے تمام فروع اصول اور جزئیات کلیات معلوم کئے جائیں بلکہ امور متذکرہ بالا کی واقفیت کافی ہے تو اس صورت میں ان نو مسلم آریوں کا کیا قصور ہے جو ان ضروری امور کی تحقیق کر کے مشرف باسلام ہوئے ہیں اور جس صورت میں خود آریہ سماج کے گروہ میں سکھ جٹ سنار اور جاہل دوکاندار آریوں میں شامل ہیں جو بغیر چاروں وید پڑھنے کے بلکہ بدوں ان امور ثلاثہ مذکورہ بالا کی تحقیق کے سناتن دھرم اور خالصہ مذہب سے جوان کے قدیم مذاہب تھے دست بردار ہو کر آریہ مت میں داخل ہو گئے ہیں اور اکثر لوگ ان میں سے نادان اور جاہل ہیں گویا کل ذخیرہ آریہ مت کا بجز شاذ و نادر اشخاص کے انہیں عوام الناس سے بھرا ہوا ہے تو پھر کیوں ان غریب نو مسلم آریوں پر اعتراض کیا جاتا ہے جنہوں نے ارکان ثلاثہ پر خوب غور کر کے مذہب اسلام اختیا رکیا ہے ۔ ہم بار بارلکھ چکے ہیں کہ یہ بات تعلیق بالمحال ہے کہ کسی مذہب کے اختیار کرنے کے لئے پہلے اپنے آبائی مذہب کی کتاب اور اس کی تفسیروں کو سبقا سبقا اوّل سے آخر تک پڑھ لینا ضروری ہے اس شرط کو نہ کوئی آریہ دکھا سکتا ہے اور نہ کوئی پادری بلکہ یہ صرف ناحق کی نیش زنی ہے جو راستبازی سے بعید