نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 550

نجم الہدیٰ — Page 55

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۵۵ نجم الهدى بالنبش ويُبدى، وكان أبى متلاحق اور ظاہر کیا جائے۔ اور میرا باپ میرے معاملہ الأفكار في أمري، ودائم الفكر من میں ہمیشہ غمگین رہتا تھا اور میری آہستگی کی يرة هونى و عدم شمرى و كان خصلت اور دنیا کے کاموں میں شوخ اور چالاک نہ ہونا اس کو فکر اور غم میں رکھتا اور وہ اس کوشش سير يسعى لـنـرقـى علـى ذروة شاهق | میں تھا کہ تاہم اقبال کے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ الإقبال، ونصل الدولة كآباءنا جائیں اور اپنے بزرگوں کی طرح دولت اور ا الأمراء والأجيال۔ فالحاصل أن قصد | أبي كان أن نـصـل فـي الدنيـا إلـى | مراتب عظمى، وكان الله أرادلى مرتبة | أخرى، امیری کو پالیں ۔ حاصل کلام یہ کہ میرے باپ کا ارادہ تھا کہ ہم دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب پر پہینچ جاویں لیکن خدا نے میرے لئے ایک اور رتبہ کا فما ظهر إلَّا ما أراد ربى ارادہ کر رکھا تھا ۔ پس جو خدا نے چاہا وہی ہوا۔ ۔ الأعلى۔ فوهب لى نورا في ليلة داجية اور اُس نے مجھے سخت سیاہ رات میں جس کے الظلم، فاحمته اللمم، و أضاء قلبی سیاہ اور لمبے بال تھے نور عطا فرمایا اور میرے دل لإضاءة القوم والأمم ۔ ومن علیؓ کو امتوں اور قوموں کے روشن کرنے کیلئے روشن وجعلني المسيح الموعود کیا اور میرے پر احسان کیا اور مجھے مسیح موعود بنایا پدر من همواره از بابت من اند و بگین می بود و خوار داشتن من دنیا را و چست نبودن من در کار آن دائما او را در اندیشه داشت و کوشش آن میکرد که ما بر قله کوه اقبال و جاہ بالا رویم ۔ و بر روش بزرگان و پدران خویش دولت و مکنت را در دست آریم - خلاصه پدرم از بس میخواست که در یں دنیا بر مرتبہ ہائے بزرگ برسیم ولیکن خدا برائے من مرتبه دیگر اراده کرده بود ۔ بالآخر همان شد که پروردگار من خواسته بود - پس او مرا در شب تا رسیاه که روکش زغال و زاغ بود روشنی بخشید - ومرا نوری در دست داد که قوم ها را روشن سازم و از کمال منت بر حسب وعدۂ قدیم مراسیح موعود بگردانید