نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 550

نجم الہدیٰ — Page 53

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۵۳ نجم الهدى اقوم لدعوة الأنام، وفعل ما شاء وهو كے لئے حکم کیا اور جو چاہا کیا اور وہ احکم الحاکمین أحكم الحاكمين۔ والله يعلم ما فی ہے۔ قلبي ولا يعلم أحد من العالمين۔۔ ہمارا ایک دوست ہے اور ہم اُس کی محبت سے پر ہیں ۔ اور مراتب اور منازل سے ہمیں حِبُّ لَنَا فَبِحُبِّهِ نَتَحَبِّبُ وَعَنِ الْمَنَازِلِ وَالْمَرَاتِبِ نَرْغَبُ | بے رغبتی اور نفرت ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ دنیا إِنِّي أَرَى الدُّنْيَا وَبَلْدَةَ أَهْلِهَا اور اُس کے طالبوں کی زمین قحط زدہ ہو گئی یعنی جلدی تباہ ہو جائے گی اور ہماری محبت کی زمین جَدَبَتْ وَأَرْضُ ودَادِنَا لا تَجُدَبُ | کبھی قحط زدہ نہیں ہوگی ۔ لوگ دنیا کی نعمت پر يَتَمَايَلُونَ عَلَى النَّعِيمِ وَإِنَّنَا جھکتے ہیں مگر ہم اس منہ کی طرف جھک گئے ہیں مِلْنَا إِلَى وَجْهِ يَسُرُّ وَيُطْرِبُ جو خوشی پہنچانے والا اور طرب انگیز ہے۔ ہم إِنَّا تَعَلَّقْنَا بِنُورِ حَبِيبِنَا اپنے پیارے کے دامن سے آویختہ ہیں ایسے کہ حَتَّى اسْتَنَارَ لَنَا الَّذِي لاَ يَخْشَبُ جو صاف اور شفاف نہیں ہو سکتا وہ بھی ہمارے إِنَّ الْعَدَا صَارُوا خَنَازِيرَ الْفَلَا لئے منور ہو گیا۔ دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر وَنِسَاءُ هُمُ مِنْ دُونِهِنَّ الأكُلَبُ ہو گئے اور اُن کی عورتیں کیتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔ آنچه را خواست کرد که او احکم الحاکمین است و خدا می داند آنچه در دل من است و غیر اوازاں آگاہ نہ۔ ترجمہ اشعار مارا محبوب است که از حب او پر می باشیم و از مراتب و مناصب بکلی فراغ داریم۔ می بینیم دنیا وزمین طالبانش را قحط بر آن چیره شده ولی زمین دوستی ما همواره سرسبز خواهد بود۔ مردم بر نعمت ہائے دنیا سر فرود آورده اند ولیکن مامیل سوئے روئے آورده ایم که شادی و خور می بخشد ۔ ما دست بدامان دوست خود زده ایم از همین سبب است که آنچه صاف بودنش دشوار بود جهت ماصاف و روشن گردیده است ۔ ☆ دشمنان ما خنزیر بائی بیابان شد و اند و زنان آنها سگ ماده بارا در پس انداخته اند تمیز ایڈیشن اول میں سہو آپا نچویں شعر کا فارسی ترجمہ آخر میں دیا گیا ہے۔ روحانی خزائن میں اسے درست کر دیا گیا ہے۔(ناشر)