نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 550

نجم الہدیٰ — Page 36

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶ نجم الهدى ولا تبقى الضوضاة لعامة الأهواء۔ فتح ہو جاتا ہے اور ہوا و ہوس کے عوام کا شور باقی نہیں رہتا اور کہا جاتا ہے کہ آج کس کا ملک ہے اور یہ جواب ہوتا ہے کہ خدائے ذوالمجد والکبر یا کا۔ مگر جو ويُقال لمن الملك اليوم۔ لله ذى المجد والكبرياء۔ وأما مرتبة مرتبه اخلاق فاضلہ اور نیک خصلتوں کا ہے اُس میں الأخلاق الفاضلة والخصال الحسنة غفلت کے وقت دشمنوں سے امن نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں کا سلوک اخلاق تک ہی محدود ہوتا ہے ان کیلئے ابھی ایسے قلعے باقی ہوتے ہیں جن کا فتح کرنا المحمودة ، فلا أمن فيها من الأعداء عند الغفلة، فإن لأهل الأخلاق تبقى مشکل ہوتا ہے اور ان کی نسبت یہ اندیشہ دامنگیر رہتا حصون يتعذر عليهم فتحها، ويُخاف ہے کہ نفس امارہ اپنی بھوک کے بھڑ کنے کے وقت حملہ نہ کرے اور جو شخص صرف اخلاق تک ہی اپنا کمال رکھتا ہے اس کی زندگی کے دن گرد وغبار سے عليهم صول الأمارة إذا ضرم لتحها، | ولا تصفوا أيام أهلها من النقع الثائر، پاک نہیں رہ سکتے اور ایسے لوگ ہوائی تیروں سے ولا يُؤمنون من السهم العائر۔ امن میں نہیں رہ سکتے ۔ فالحاصل أن هذه تعاليم | پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہ جو ہم نے بیان کیا ہے یہ قرآن شریف کی تعلیمیں ہیں اور الفرقان، وبها استدارت | انہی تعلیموں کے ساتھ انسان کی تکمیل علمی اور دائرة تكميل نوع الإنسان عملی کا دائرہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے وعوام ہوا و ہوس را سر فتنه و شورش کوفته گردد و آن وقت گفته شود که امروز ملک کر است جواب باشد خدائے بزرگ یگانہ بے ہمتار است اما آنچه مرتبۂ اخلاق فاضلہ و خو ہائے نیک می باشد دراں مرتبہ در ہنگام غفلت ایمنی از دشمنان نتواند بود - چه اهل اخلاق را هنوز قلعبهاست که فتح آن بر ایشان خیلی دشوار است و اندیشه بسیار است که نفس اماره در وقت اشتعال بر ایشاں بتاز د حقیقت ہر کہ تا بمنزل اخلاق رخت بیاندازد نمی شود روزگار حیاتش از گردو غبار پاک باشد و هرگز نمی شود هیچوں کسان از تیر ہوائی ایمن و مطمئن بگردند ۔ خلاصه این تعلیم فرقان است و همین است آنچه دائره تحمیل علمی و عملی انسان را بکمال رساند