نجم الہدیٰ — Page 32
روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى وأقبــل عـلـيـهم بالتفضلات الأزليّة۔ اور عنایات از لیہ کے ساتھ اُس کی طرف توجہ کی وإن الــصـــحــابـة أُخِذوا بهذا الأثر من اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کو تحت الثرى ورفعوا إلى سمك سوچ کہ صحابہ زمین کے نیچے سے لئے گئے اور آسمان کی بلندی تک پہنچائے گئے اور درجہ بدرجہ السماء ، ونُقلوا درجة بعد درجة برگزیدگی کے مقام تک منتقل کئے گئے ۔ اور إلى مقام الاجتباء والاصطفاء۔ وقد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو چارپایوں وجدهم النبي كعجماوات لا یعلمون کی مانند پایا کہ وہ تو حید اور پر ہیز گاری میں سے شيئا من تهذيب وتقاة ولا يُفرّقون کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور نیکی بدی میں تمیز نہیں بين صلاح وهنات، فعلمهم أولا کرسکتے تھے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انسانیت کے آداب سکھلائے ۔ اور آداب الإنسانية بالاستيفاء ، تمدن اور بود و باش کی راہوں پر مفصل مطلع کیا وفصل لهم طرق التمدن والثواء اور اُن کے لئے پاکیزگی کے طریقوں اور والطهارة والاستنان و السواک دانتوں کو صاف کرنا اور مسواک کرنا اور خلال والخلالة بعد الضحاء والعشاء، بعد طعام چاشت و طعام شب کرنا اور بول والاستنتـــار عـند البول والاستبراء کر کے جلدی سے نہ اٹھنا بلکہ بقیہ قطرات و باران رحمت و فضل بے انداز و بر سرش بارید - اثر آن قوه قدسیه را بدقت نظر یہ ہیں کہ صحابہ را از زیر طبقات زمین بکشید و بر اوج فلک رسانید و بآخر تدریجا خلعت برگزیدگی بر اوشان پوشانید اں نبی کریم اوشاں را چون مواشی دید که از راه توحید و پرہیز گاری بیچ آگاهی نداشتند و نیک را از بدنمی شناختند ۔ لہذا اولا بایشان آداب انسانیت چنانچه شاید بیاموخت و طریق تمدن و معاشرت مفصل تعلیم فرمود از قبیل طہارت و پاک کردن دندان و مسواک کردن و بعد طعام چاشت و شب خلال کردن ۔ و پس از بول زود بر پانشدن بل بگذاشتن تا بقیه قطره با نجوشد و با صفائی هر چه