نجم الہدیٰ — Page 23
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳ نجم الهدى مستغيثا ۔ وكذالك تركوا ضوء | ان ہی کے آگے فریاد کرتا تھا ۔ اور اسی طرح انہوں نے روشنی کو چھوڑ ا رات کو اپنا قیام گاہ بنایا النهار واتخذوا الليل مقاما اور اندھیرے سے پیار کر کے رات میں داخل وأدلج كلّ فيه وأحبوا ظلامًا ۔ وكانوا ہوئے اور بتوں کے ساتھ وہ لوگ ایسے خوش ہوتے تھے جیسا کہ کوئی ایک مراد پا کر خوش ہوتا يهتزّون بهـا هـزة من فاز بالمرام، أو ہے یا جیسا کہ وہ شخص خوش ہوتا ہے جس کے قابو كمن أكتبه قنص فأخذه من غیر رمی میں آسانی سے جنگلی شکار چڑھ جاتا ہے اور بغیر تیر مارنے کے پکڑا جاتا ہے۔ اور ان کے دل میں یہ ذہن نشین تھا کہ ان کے بت تمام مُرادیں ان کی السهام، وكانوا قد علق بقلبهم أنهم | يعطون كلّ مرادهم من دے سکتے ہیں اور وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ الأصنام، وحسبوا أن الله منزّه عن خدا تعالیٰ ان تکالیف سے کہ کسی کو مراد دیوے اور کسی کو پکڑے پاک اور منزہ ہے اور اس نے تلك الاهتمام، وزعموا أنه أعطى یہ تمام قوتیں اور قدرتیں جو عالم ارواح اور لآلهتهم قوة وقدرة في عالم الأرواح اجسام کے متعلق ہیں اُن کے بتوں کو دے رکھی والأجسام، و كساهم رداء الوهيته ہیں اور عزت بخشی کے ساتھ الوہیت کی چادر ساحت روز روشن برون رفتند و در کنج تنگ و تا رشب جا گرفتند و با بتان آنچنان خرم و شاد می زیستند که شخصی که کام جانش در کنار آمد یا مانند کسی کہ نخچیر ے آسان در چنبر ا وا فتاد و بے انداختن تیرے برا و دست یافت - یقین انها بود که بت ہا تو انائے ہر چہ تمامتر بر بر آوردن ہر گونہ کام دارند و خدا را از این چپقلش و دار و گیر که کسی را کام روا کند و کسی را بگیرد برتر و بلند می پنداشتند ۔ و گمان داشتند که خدا همه قدرت وقوت که تعلق بعالم اجسام وارواح دارد بت ہارا سپرده و از راه آبرو افزائی و بنده پروری دیهیم و افسر الوہیت بر فرق انہا نہادہ۔