نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 550

نجم الہدیٰ — Page 164

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۶۴ راز حقیقت بقیه حاشیه ۱۳) اے حیا و شرم سے دور رہنے والو! ذرہ اس بات کو تو سوچو کہ وہ شہادت کے اخفا کے بعد کیوں جلد مر گیا۔ کہ یہ ایک ایسا ثبوت ہے کہ اس سے یک دفعہ عیسائی مذہب کا تمام تانا بانا ٹوتا ہے اور انیس سو برس کا منصو بہ یکد فعہ کا لعدم ہو جاتا ہے۔ اس بات کا اطمینان ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس ملک ہند اور کشمیر وغیرہ میں آنا ایک واقعی امر ہے ۔ اور اس کے بارے میں ایسے زبر دست ثبوت مل گئے ہیں کہ اب وہ کسی مخالف کے منصوبہ سے چھپ نہیں سکتے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان بیہودہ اور غلط عقائد کی اسی زمانہ تک عمر تھی ۔ ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا ہے صلیب کو توڑے گا اور آسمانی حربہ سے دجال کو قتل کرے گا۔ اس حدیث کے اب یہ معنے کھلے ہیں کہ اُس مسیح کے وقت میں زمین و آسمان کا خدا اپنی طرف سے بعض ایسے امور اور واقعات پیدا کر دے گا جن سے صلیب اور تثلیث اور کفارہ کے عقائد خود بخود تا بود ہو جائیں گے مسیح کا آسمان سے نازل ہونا بھی ان ہی معنوں سے ہے کہ اُس وقت آسمان کے خدا کے ارادہ سے کسر صلیب کے لئے بدیہی شہادتیں پیدا ہو جا ئیں گی ۔ سو ایسا ہی ہوا ۔ یہ کس کو معلوم تھا کہ مرہم عیسی کا نسخہ صد باطبی کتابوں میں لکھا ہوا پیدا ہو جائے گا اس بات کی کس کو خبر تھی کہ بدھ مذہب کی پرانی کتابوں سے یہ ثبوت مل جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بلا وشام کے یہودیوں سے نومید ہو کر ہندوستان اور کشمیر اور مثبت کی طرف آئے تھے کہ یہ بات کون جانتا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی کشمیر میں قبر ہے ۔ کیا انسان کی طاقت میں تھا کہ ان تمام باتوں کو اپنے زور سے پیدا کر سکتا۔ اب یہ واقعات اس طرح سے عیسائی مذہب کو مٹاتے ہیں جیسا کہ دن چڑھ جانے سے رات مٹ جاتی ہے۔ اس واقعہ کے ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کو وہ صدمہ پہنچتا ہے جو اس چھت کو پہنچ سکتا ہے جس کا تمام بوجھ ایک شہتیر پر تھا۔ شہتیر ٹوٹا اور چھت گری ۔ پس اسی طرح اس واقعہ کے ثبوت کا نوٹ :۔ حال میں مسلمانوں کی تالیف بھی چند پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آسف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھا اور شہزادہ بھی تھا۔ اور کشمیر میں اُس نے انتقال کیا۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ سو برس پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزرا ہے ۔ منہ