نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 550

نجم الہدیٰ — Page 163

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۶۳ راز حقیقت ڈاکٹر کلارک کی کوٹھی پر بمقام امرتسر مقابلہ کیا تھا وہ تو اب تک زندہ موجود ہے، جواب یہ مضمون لکھ رہا ہے کے حضرت عیسی علیہ السلام کے سوانح بدھ مذہب میں لکھے گئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس ملک میں بدھ مذہب کا بہت زور تھا اور بید کا مذہب مر چکا تھا اور بدھ مذہب بید کا انکار کرتا تھا کہ بقیه حاشیه 1900 خلاصہ یہ کہ ان تمام امور کو جمع کرنے سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے ۔ یہ بات یقینی اور بافتہ ہے کہ بدھ مذہب کی کتابوں میں اُن کے اس ملک میں آنے کا ذکر ہے اور جو مزار حضرت عیسی علیہ السلام کا کشمیر میں ہے جس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قریباً انیس سو برس سے ہے۔ یہ اس امر کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے۔ غالباً اُس مزار کے ساتھ کچھ کتنے ہوں گے جواب مخفی ہیں ۔ ان تمام امور کی مزید تحقیقات کے لئے ہماری جماعت میں سے ایک علمی تفتیش کا قافلہ طیار ہورہا ہے جس کے پیشرو اخویم مولوی حکیم حاجی حرمین نورالدین صاحب سلمه ربہ قرار پائے ہیں یہ قافلہ اس کھوج اور تفتیش کے لئے مختلف ملکوں میں پھرے گا اور ان سرگرم دینداروں کا کام ہوگا کہ پالی زبان کی کتابوں کو بھی دیکھیں کیونکہ یہ بھی پتہ لگا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اُس نواح میں بھی اپنی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں گئے تھے لیکن بہر حال کشمیر میں جانا اور پھر تبت میں جا کر بدھ مذہب کی پستکوں سے یہ تمام پتہ لگانا اس جماعت کا فرض منصبی ہو گا۔ اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور نے ان تمام اخراجات کو اپنے ذمہ قبول کیا ہے لیکن اگر یہ سفر جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے بنارس اور نیپال اور مدراس اور سوات اور کشمیر اور محبت وغیرہ ممالک تک کیا جائے جہاں جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی بود و باش کا پتہ ملا ہے تو کچھ شک نہیں کہ یہ بڑے اخراجات کا کام ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بہر حال اللہ تعالیٰ اس کو انجام دے دے گا۔ ہر ایک دانش مند سمجھ سکتا ہے صرف یہی بات نہیں کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے ہندوستان اور محبت میں آنے کا تذکرہ ہے بلکہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کی پرانی تحریروں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ منہ