نجم الہدیٰ — Page 148
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۴۸ نجم الهدى من الخاطئين۔ وعجبوا أن جاء هم عقیدہ ہمارے لئے کافی ہے۔ اور ان کو اس بات سے مأمور من ربهم وقالوا إن هذا إلا من تعجب ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور المفترين وقد كانوا من قبل علی آگیا اور انہوں نے کہا یہ تو مفتری آدمی ہے۔ اور پہلے رأس المائة من المنتظرين۔ وإنه صدى كے سر پر انتظار کر رہے تھے۔ اور وہ ان کو عزت جاء هم لإعزازهم، وجهزهم دینے کے لئے آیا اور اس نے ان کا تمام سامان طیار کیا بجهازهم و آتاهم ما يُفحم قوما اور وہ وسائل ان کو دیئے جس سے مخالف لا جواب ہو مفسدين۔ أما عرفوا وقته أو جاء جائیں کیا انہوں نے اس مامور کے وقت کو شناخت عندهم في غير حين؟ وإن أيام الله نہیں کیا یا وہ ان کے پاس بے وقت آیا ہے ۔ اور قد أتت، وقرب يوم الفصل فبشرى بتحقيق خدا تعالی کے دن آگئے اور فیصلے کا دن قریب للذين يقبلونه شاکرین۔ يريدون ان ہو گیا۔ پس انہیں بشارت ہو کہ جو شکر کے ساتھ قبول يطأوا ما أراد الله أن يُعليه ويُجادلون کریں۔ کیا ان کا یہ ارادہ ہے کہ جس کو خدا بلند کرنا بغير علم وبرهان مبين۔ وكتب ا الله | چاہتا ہے اس کو پامال کر دیں اور ناحق بحث مباحثہ أن يجعل عباده المرسلين غالبین کرتے رہیں اور خدا نے تو یہ لکھ چھوڑا ہے کہ اس کے فليحاربوا الله إن كانوا قادرين، بھیجے ہوئے بندے غالب ہوں گے ۔ پس کیا وہ ومــــــا كان الأمر مشتبه خدا سے لڑ سکتے ہیں۔ اور بات مشتبہ نہیں تھی مگر گردیده اند - وایشان در شگفت بماندند که چگونه از جانب خدا آمد و او را مفتری و دروغ باف گفتند و بر سر صد چشم در راهش بودند - حال آنکه او از بہر ہمیں آمده است که آبروئے شان را بیفزاید وسامانی و موادے در دست شاں بداد که تا بر اعدائی اسلام بحجبت و برہان چیره و تو انا بشوند - آیا ایشاں وقت این مامور را نه شناخته اند یا اونز دایشان در غیر وقت آمده است ہما نا ایام اللہ آمده و یوم فصل قریب است - مژده آنان را که از کمال منت پذیری او را قبول نمایند ۔ آیا می خواهند کسی را که خدا میخواهد برافراز و پائے برسروے بگذارند و پرکارہائے بیہودہ و پر خاشہائے لا طائل باوے بر پابدارند و خدا مکتوب کرد است که البته فرستاد بالیش منصور