نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 550

نجم الہدیٰ — Page 106

روحانی خزائن جلد ۱۴ 1+4 نجم الهدى فما استطاعوا أن يأتوا بالمعاذير پس وہ لوگ کوئی عذر معقول پیش نہیں کر سکتے المعقولة أو ينقضوا أحدًا من الأدلة ۔ اور نہ کسی دلیل کو توڑ سکتے ہیں اور میرا وقت وكان وقتي هذا وقت كانت العيون ایک ایسا وقت تھا کہ نہایت بے قراری سے فيها مدت إلى السماوات من شدّة آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہوئی تھیں ۔ کیونکہ الكربة بما أضل الناس أهل الدجل اہل وجل نے جہاں تک ان کے لئے ممکن تھا بكل ما أمكن لهم من الأطماع طمع اور دھوکہ دینے سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ والاختضاع والخديعة۔ ثم مع پھر باوجود اس کے اس زمانہ میں مسلمانوں ذالک کثر التشاجر في هذا الزمان میں نہایت درجہ کا اختلاف واقع ہے اور کوئی بين الأمة، وما بقى عقيدة إلا وفيه ايسا عقیدہ باقی نہیں رہا جس میں مسلمانوں اختلاف ونزاع في الفرق الإسلامية، کے فرقوں میں اختلاف اور نزاع نہ ہو اور واقتضت الطبائع حَكَمًا ليحكم لوگوں کی طبیعتوں نے ایک حکم چاہا جو عدل بالعدل والنصفة، فحكّمنی ربّی اور انصاف سے فیصلہ کرے سوخدا تعالیٰ نے مجھے وأراد أن يرفع إلى مشاجراتهم حكم مقررفرمادیا تا کہ ان کے اختلافات کے را یکسر بر بسته ام و در قدرت انها نمانده که عذرے معقول در پیش آرند یا حجتے را از حجت ہائے من برشکنند ۔ وایس وقت وقتے بوده که دیده با از بس بے تابی منتظر آن بودند زیرا که اہل دجل و فریب هر قدر ممکن بود از راه فریب و آز فزائی مردم را از راه بردند۔ علاوه از ان در این زمان خود درمیانہ فرقہ ہائے اہل اسلام جنگ و جدل و دارو گیر و پیکار از پایان در گذشته عقیده نمانده که در نز د فرقه از فرق اسلام اختلاف و نزاع دراں نباشد ۔ لا جرم طبیعت با بصد جان جنگی را آرزو کردند که بعدل ونصفت درمیانہ ایں ہمہ اختلافات نور را از ظلمت ممتاز ساز دلہذا خداوند بزرگ مرا حکم مقرر فرمود تا مرافعہ ہمہ قضیہ ہائے اختلافات