نجم الہدیٰ — Page 100
روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى شهد الزمان أن الأوان هو هذا اور زمانہ نے اپنی حالت موجودہ کے ساتھ گواہی الآوان، بما ظهرت الصلبان دے دی ہے کہ وقت یہی وقت ہے کیونکہ صلیب وزادت الغواية والطغيان، وترى غالب ہو گیا اور گمراہی زیادہ ہو گئی اور تو القسوس* كيف هـولـوا النفوس، پادریوں کو دیکھتا ہے کہ کیونکر اُن کی سخت کوشش انا ذكرنا غير مرة كيد القسوس وما | ہم نے بارہا پادریوں کے مکر کا ذکر کیا ہے اور نعلم كيف يكون اثره على النفوس ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ دلوں پر اس کا کیا اثر ہوگا ۔ فاعلموا انا لانريد بهذه الكلمات۔ ان پس یا درکھو کہ ہمارا ان کلمات سے یہ مطلب نہیں يدفع سيئاتهم بالسيئات ۔ بل الواجب على کہ بدی کا بدلہ بدی کے ساتھ لیا جاوے بلکہ المؤمنين ان يصبروا على ايذائهم۔ ويدفعوا بالحسنة سيئاتهم۔ الذي نشأت مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کے ایذا پر صبر من اهوائهم۔ ولا ينظروا الى سبهم کریں اور بدی کا نیکی کے ساتھ معاوضہ دیں وازدرائهم۔ فان الله تبارک و تعالی اوصی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں صبر کے لئے حکم فرمایا لنا بالصبر في القرآن و قال تسمعون اذى | ہے اور فرمایا کہ جب تم اہل کتاب سے دکھ دیئے كثيرا منهم والصبر خیر فی ذالک | جاؤ تو صبر کرو ۔ پس جو شخص صبر نہ کرے اس کو من الأوان۔ فمن لم يصبر فليس له حظ ۔ الايمان۔ فاصبروا على ايذاء القسوس ایمان سے بہرہ نہیں ہے۔ سو تم صبر کرو اور مقابلہ واتقوا۔ واذا شتموا فلا تشتموا سے بچو ۔ جب گالیاں سنو تو گالی مت د وو از حالت موجودہ گواہی دہد کہ وقت ہمیں وقت است چه صلیب چیره گردید وگری ہر چہارسورا فرا گرفت وی بینی کشیشان را مکرر ادرباره مکر کشیشان ذکرے درمیان آوردیم و نمی دانیم کہ دلہا از این چه اثر بپذیرند - آگاه باشید که ما ہرگز اراده نداریم که پاداش بدی با بدی کرده شود بلکه مومنان را لازم است که برایذائے انہا صبر بورزند و بدی را کہ نتیجہ ہوائے انہاست با نیکی دفع بکنند و دشنام و استحقار آنان را بچشم اغماض به بینند زیرا که خداوند بزرگ ما را در قرآن کریم برائے صبر امر فرموده و گفته که از وشاں گفتار ہائے بد بسیار خواهید شنید و شکیبائی دراں روزگار بہتر خواهد بود۔ لہذا ہر کہ شکیب نگزیند او از اہل ایمان نیست۔ پس باید که برایذائے کشیشاں صبر بورزید و از هیچو مقابله بترسید و چوں دشنام دہند دشنام مد ہید۔