نجم الہدیٰ — Page 99
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۹۹ نجم الهدى وكنت أعلم أن العلماء اور میں جانتا تھا کہ علماء میری تکذیب کریں گے يُكذبوننی ویجعلوننی عرضا اور مجھے اپنے تیروں کا نشانہ بنائیں گے اور کہیں للسهام، ويقولون أنه شق العصا گے کہ اس نے اجماع کو توڑا اور عقیدہ اجماعی سے خارج ہو گیا ۔ پس بخدا میں ان سے نہیں وخرج من إجماع أئمة الإسلام | ڈرا اور کسی امر کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے فوالله ما خشيتهم وما سترت أمرًا الہام ہوا پوشیدہ نہیں رکھا اور اس سے بڑھ کر اور أوحى إلى من الله العلام، وأى ذنب کون سا گناہ ہو گا جو خلقت سے ڈر کر حق کو أكبر من ان يكتم الحق من خوف چھپایا جائے اور میں نے اس جگہ بغیر اعلام الہی کے قدم نہیں رکھا اور میرا یہ بھی اختیار نہ تھا کہ الأنام، وما وردت هذا المورد من غير الأمر والإعلام، وما كان لي أن میں اس مقام سے معافی چاہتا اور میں ایسا نہیں آیا جیسا کہ یونہی ایک ناخواندہ مہمان رات کو أستقيل من هذا المقام۔ وما جِئْتُ آجاتا ہے بلکہ میں اس چاند کی طرح نکلا جس كطارق إذا عری، بل جئت کبدر نے مکہ معظمہ میں طلوع کیا اور میرے پاس طلع في أُم القرى، وعندى شهادات دیکھنے والوں کے لئے گواہیاں ہیں اور اس دل لمن يرى، وآيات لقلب وعی۔ وقد کے لئے جو یاد رکھنے والا ہو نشان ہیں۔ من نیک می دانستم که علماء در دنبال تکذیب من بوده مرا ہدف تیر ہائے خودخواهند ساخت و خواهند گفت که این کس خلاف اجماع کرد و از عقیده اجماعی خروج نمود ۔ بخدا از اناں نترسیدم وامرے را از امور ماهمات نپوشیدم و خود گنا ہے بزرگتر ازین چه باشد که از بیم خلائق پرده بر حق انداخته شود و من در اینجا بے اجازہ خدا پا نهاده ام و مرا ز یا نبود که ازین مقام پوزش میکردم - من زنہار چوں مهمان ناخوانده در هنگام شب نیامده ام من چون بدرے آمده ام که در مکه مکرمه طلوع فرمود - جهت کسے کہ بہ بیند گواہی با دارم و برائے دلے کہ حق را ضائع نمی کند نشانها در دست من است - زمانه