منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 581

منن الرحمٰن — Page 234

۲۳۴ منن الرحم روحانی خزائن جلد ۹ ٩٠ اللغت الاصلية۔ ومسخت الكلمات النورانية۔ وفات النظام الكامل الموزون۔ پھر یہ زبان محرف اور مبدل کی گئی اور وہ نورانی کلے مسخ کئے گئے اور نظام کامل فوت ہو گیا اور موتی چھپا ہوا ضائع ہو گیا اور وضاع الدر المكنون۔ وخلف من بعدهم خلف تباعدوا عن العربية۔ ومسخوها | نا خلف لوگ بعد میں آئے جو عربی سے دور جا پڑے اور عربی زبان کو مسخ کر دیا اور بدل ڈالا یہاں تک کہ ان زبانوں کونئی وبدلوها حتى جعلوها كالالسنة الجديدة وما بقى الا قليل يتكلمون بها من زبانوں کی طرح کر دیا اور عربی تھوڑی رہ گئی جس کو تھوڑے آدمی زمین پر بولتے تھے اور دوسرے لوگوں نے تو کل الفاظ بعض الأدميين۔ والأخرون حرفوا كلمها عن مواضعها وبعدوا جواهرها عن عربی کو اس کے مواضع سے بدل ڈالا اور اس کے جواہر کو ان کی معدنوں اور مکانوں سے دور ڈال دیا۔ لہذا وہ معادنها و اماكنها فصارت السنة جديدة في اعين الغافلين۔ ونضى منها خلعة | زبانیں لوگوں کی نظر میں نہیں دکھائی دیں۔ اور نفیس پیرایوں کا خلعت ان سے اتارا گیا اور وہ بنگی جلد والی اور کھلی کھلی حللها النفيسة و جعلت عارى الجلدة بادى العورة تبذء ها اعين الناظرين۔ ننگی کی گئیں جن کو دیکھ کر نظر میں کراہت کرتی ہیں اور اسی وجہ سے تو ان زبانوں کو دیکھتا ہے کہ وہ نظام سے گری ہوئی فلاجل ذلك تراها ساقطة عن النظام والقواعد الطبعية۔ ومتفرقة غير منتظمة۔ اور قواعدہ طبعیہ سے خالی اور متفرق جنگلوں کی لکڑیوں کی طرح غیر منتظم اور ایک دوسری سے دور پڑی ہیں اور تو دیکھتا كخشب الفلا المتباعدة وتشاهد انها تائهة لا ذرا لها و لا دار و لا سکک و لا ہے کہ وہ آوارہ ہیں نہ ان کا کوئی گھر اور نہ ہمسایہ۔ اور تو یہ بھی دیکھتا ہے کہ ان کے مفردات اور ان کی نظر میں کوئی جوار وترى ان مفرداتها متبدّدة لا انساب بينها وعارية ابدت وصمتها وشينها نسبت با ہم باقی نہیں رہی اور وہ ایسی تنگی ہیں کہ ان کا عیب اور داغ کھل گیا اور یہ اس لئے ہوا کہ نظام ضائع ہو گیا اور وذالك بما ضاع النظام و ما بقى القوام ورعتها الانعام فترى كانها ارض بذيّة قوام باقی نہ رہا اور چار پائے بولیوں کو چر گئے اور تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ ایسی زمین ہے جس میں کوئی سبزہ وغیرہ نہیں او موماة مخوفة مجنّة تبذءها عين المحققين۔ وما حسن الأن شانها اور ایسا خوفناک جنگل ہے جس میں جن رہتے ہیں جس سے محققوں کی آنکھیں کراہت کرتی ہیں اور اب ان کی