منن الرحمٰن — Page 233
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۳۳ منن والعربية اوّل در لارضاع الفطرة الانسانية ۔ و اول خرسة لتغذية ام البرية | اور عربی وہ پہلا دودھ ہے جو انسانی فطرت کو پلایا گیا اور وہ پہلی اچھوانی ہے جو مخلوقات کی ماں کو کھلائی گئی المطعمين واليه اشار معطى القياس والحواس۔ ودافع وساوس | اور اسی کی طرف اس ذات نے اشارہ کیا ہے جس نے قیاس اور حواس کو پیدا کیا اور جس نے خناس کے الخناس إِنَّ اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبرَكًا وَهُدًى لِلْعَلَمِينَ وساوس کو دفع کیا جو پہلا گھر یعنی بیت اللہ وہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور ہدایت واسطے عالموں کے فاومى الى ان العربية سبقت الالسنة واحاطت الامكنة وهى اول غذاء پس اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو عربی تمام زبانوں پر سبقت لے گئی اور تمام مکانوں پر محیط ہے للناطقين۔ فان البيت لا يخلوا من مجمع الناس والمجمع يحتاج الى الكلام اور وہ بولنے والوں کی پہلی غذا ہے کیونکہ گھر لوگوں کے مجمع سے خالی نہیں ہوتا اور مجمع دفع حاجت اور باہم لدفع الحوائج والاستيناس ۔ فان المعاشرة موقوفة على الفهم والتفهيم كما انس پکڑنے کے لئے کلام کی طرف محتاج ہوتا ہے کیونکہ معاشرت فہم اور تفہیم پر موقوف ہے جیسا کہ زیرک لا يخفـي عـلـى الزكيى الفهيم و كذالك قوله تعالى إِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرهِيمَ مَكَانَ اور فہیم پر یہ بات پوشیدہ نہیں اور اسی طرح خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ یا دکر جب ہم نے ابرا ہیم کو دوبارہ بنانے الْبَيْتِ : دليل على كون مكة اول العمارات فلا تسكت كالميت و كن من کے لئے وہ مکان دکھلایا جہاں ابتدا میں بیت اللہ تھا۔ یہ قول صاف بتلا رہا ہے کہ مکہ دنیا میں پہلی عمارت ہے المتيقظين۔ فحاصل المقالات ان مكة كانت اول العمارات۔ ثم خربت | پس مردہ کی طرح چپ مت ہو جا اور جاگنے والوں کی طرح ہو ۔ پس حاصل کلام یہ کہ مکہ دنیا میں پہلی عمارت من الحادثات وسيل الأفات۔ فلزم ذلك البيان۔ ان العربية كانت اول | تھی پھر حادثات اور سیل آفات سے خراب ہو گیا پس اس بیان سے یہ لازم آیا کہ ہر یک زبان کے وجود كل ما كان۔ وعلمها الله ادم وكمل بها الانسان۔ ثم حرفت هذه سے پہلے عربی زبان تھی اور خدا نے آدم کو ہی زبان سکھلائی تھی اور اسی کے ساتھ انسان کو کامل کیا گیا نوٹ : جبکہ بیت اللہ تمام عالم کے لئے ہدایت پانے کا ذریعہ ہوا تو اس میں صاف اشارہ ہے کہ وہ ایسے مرکز پر واقع ہے جس کی زبان تمام دنیا کی زبانوں سے مشارکت رکھتی ہے اور یہی اُم الالسنہ ہونے کی حقیقت ہے۔ منہ ال عمران : ۹۷ ۲ الحج : ۲۷