منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 581

منن الرحمٰن — Page 229

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۹ منن الرح و اما الجاهل الغبى والقلب المخطى فلا يرى خيره وشره الا بعد البناء۔ ويسلك | مگر جاہل نبی اور خطا کرنے والا دل اپنے مکان کی برائی بھلائی پر اس وقت اطلاع پاتا ہے جبکہ مکان بن کر تیار ہو جاتا ہے مسلك العشواء ولا يرى المآل في اول الحال ۔ ولا ينظر الى ما سيحتاج اليه اور اندھی اونٹنی کی طرح چلتا ہے اور انجام کار کو اول حال میں دیکھ نہیں سکتا اور جو کچھ آخرکسی وقت حاجتیں پڑیں گی ان پر اس في بعض الاحوال۔ فيبنى من غير تقدير وتنسيق وترتيب ولا يتدبر كذى معرفة | کی نظر نہیں ہوتی ۔ پس وہ مکان کو بغیر کسی اندازہ اور ترتیب کے یوں بناڈالتا ہے۔ اور ایک دانشمند عارف کی طرح نظر نہیں لبيب ولا يفطن الى ما يلزم لمبناه الا بعد ما سكنه وجرّب مثواه ووجده ناقصا کرتا اور نہیں سوچ سکتا کہ اس کی اس بنا کا انجام کیا ہو گا مگر اس وقت اس کو پتہ لگتا ہے جبکہ اس میں آباد ہو اور آزمالیوے اور وراه۔ فيشعر حينئذ انه لا يكفى لمباءته فيتألم برويته بعد خبرته۔ ويبكى مرة على نکما پاوے سو اس وقت اس کو سمجھ آتی ہے کہ اس کی بود و باش کے لئے کافی نہیں ہے سو اس مکان کے مشاہدہ اور آزمائش فقدان منيته۔ وأخرى على حمقه وجهالته وضيـعـة فـضته۔ وتطلع على قلبه نار کے بعد دردناک ہوتا ہے اور کبھی اپنی نامرادی پر روتا ہے اور کبھی اپنے جمق اور جہالت اور نقصان مایہ پر گریہ وزاری حسرته بما لم يدر في اول الامر مآل خطته كالعاقلين فيتدارك ما فرط منه بعد کرتا ہے اور اس کے دل پر حسرت کی آگ بھڑکتی ہے اس خیال سے کہ کیوں پہلے ان حرجوں اور نقصانوں پر میری نظر مارى التفرقة واشتات۔ متأسفا على ما فات۔ و باكيا كالمتندمين۔ فهذا الذهول | نہیں پڑی پس اب تجربہ کے بعد اور تفرقہ اور پریشانی اٹھانے کے پیچھے اپنے نقصانوں کا تدارک کرتا ہے ۔ مگر دل الذي يخالف العقل والحكمة۔ ويبائن القدرة والمعرفة الكاملة لا يُعزى الى تأسف اور افسوس سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور روتا ہوا بگڑے ہوئے کی اصلاح کرتا ہے پس ایسا نسیان جو عقل اور حکمت قدير الذى هو ذو الجلال والقوة۔ وخبير الذى يحيط الاشياء بالعلم | کے مخالف اور معرفت کاملہ کے مغایر ہے اس خدا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا جو قادر اور بزرگ اور قوی اور علم اور والحكمة۔ سبحانه هو يعلم الخفى والاخفى والقريب والاقصى ويعلم الغيب حکمت کے ساتھ ہر یک چیز پر محیط ہو رہا ہے اور وہ پوشیدہ بلکہ پوشیدہ تر کو اور نزدیک و دور کو جانتا ہے اور وہ غیب کو ر ۸۵