منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 581

منن الرحمٰن — Page 222

۲۲۲ روحانی خزائن جلد ۹ ۷۸ ولا تكفى مفرداتها في استيفاء انواع المرام۔ و لا توجد فيها ذخيرة المفردات۔ اور ان کے مفردات مقصودوں کے حاصل کرنے کے لئے کفایت نہیں کر سکتے اور ان میں مفردات کا ذخیرہ نہیں پایا جاتا سيما مفردات مشتملة على المعارف والالهيات ودقايق الدينيات۔ بل لا بالخصوص وہ مفردات جو معارف اور الہیات اور دینی دقائق پر مشتمل ہیں بلکہ تجھے یہ طاقت نہ ہوگی کہ اس کے مفردات کے تستطيع ان تؤلّف بمفرداتها قصةً او تكتب حكايةً مبسوطة من امور الدنيا ساتھ کوئی قصہ تالیف کرے یا کوئی لمبی چوڑی حکایت لکھے خواہ دنیا کے متعلق خواہ دین کے متعلق کیونکہ وہ بولیاں ناقص والدين فانها ممسوح وخة مبدلة و ناقصة مغيرة فلا طاقت فيها ولا قوة ولا نظام بولیاں ہیں جو بدلائی گئی ہیں اور ان کی صورت مسخ ہوگئی ہے پس ان بولیوں میں کچھ طاقت اور قوت نہیں اور نہ کچھ نظام اور ولا عظمة ولا كمال كعربی مبین و لاجل ذلك لا يفوز اهلها غلبة عند نہ عظمت اور نہ عربی کی طرح کچھ کمال اسی لئے ان بولیوں کے بولنے والا مقابلہ کے وقت غالب نہیں آسکتا اور جنگ مقابلة۔ ويفركزمّل عند مناضلة۔ ويرهق بمعتبة ومذلة۔ و يرى يوم تبعة كالمخذولين۔ میں ایک بزدل نا مرد کی طرح بھاگتا ہے اور ذلت اور ملامت اٹھاتا ہے اور انجام بدی کا دن دیکھتا ہے جیسا کہ ذلیل اور وانها قد بلغت مخارم الجبال۔ في علو الشان وانواع الكمال۔ وخرجت كفاتک نامراد لوگ دیکھتے ہیں اور کچھ شک نہیں کہ زبان عربی اپنی شان میں پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچ گئی ہے اور ایک بہادر ماضي العزيمة و تنادى رجل الكريهة۔ فهل من مبارز في المخالفين۔ و هل في پورے ارادے والے کی طرح میدان میں نکلی ہے اور مقابل کے آدمی کو بلا رہی ہے پس کیا کوئی مخالفوں میں بہادر ہے ندوة حيهم احد من الباسلين۔ وما هذا من الدعاوى التي لا دليل عليها۔ بل ترى | اور کیا کوئی ان کی مجلس میں دلیر موجود ہے اور یہ وہ دعوی نہیں ہے جن پر کوئی دلیل نہ ہو بلکہ تو دلائل کے لشکر اس دعوے کے عساكر البراهين لديها كالطوافين۔ وترى انها قائمة كجحيش شيحان وتجول پاس پائے گا جیسا کہ طواف کرنے والے ہوتے ہیں اور اس بولی کو تو ایسا قائم پائے گا جیسا کہ ایک بہادر مستقل ارادہ اور بمفصل و سنان ۔ فمن ارته شعاعًا ۔ طارت نفسه شعاعًا و سقط کمیتین تلوار اور نیزہ کے ساتھ جولان کر رہی ہے پس جس کو اس نے اپنا شعاع دکھلایا سو اس کی ہوائیاں اڑ گئیں اور مر دوں