منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 581

منن الرحمٰن — Page 221

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۱ منن الرح وأعطاها حسنًا يصبى قلوب المبصرين۔ فلأجل هذه الكمالات و وجازة ) اور اس کو ایسا حسن عطا کیا ہے جو دیکھنے والوں کے دلوں کو کھینچتا ہے پس انہیں کمالات کی وجہ سے اور کلمات الكلمات تعصمنا عن اضاعة الاوقات۔ وتُسعدنا الى ابلغ البيانات۔ وتحفظنا کے اختصار سے اوقات کے ضائع ہونے سے بچاتی ہے اور نہایت بلیغ بیانات کی طرف ہمیں رہبر ہوتی ہے عن فضوح الحَصَرِ وتعضدنا فى قيد ظبأ المعانى والشصر۔ فلا نقف موقف | اور زبان کی بستگی سے ہمیں نگہ رکھتی ہے اور معانی کے ہرنوں اور آہو بچوں کے قید کرنے میں ہمیں مدد دیتی مندمة في ميدان۔ و لا نرهق بمعتبة عند بيان۔ وتكشف علينا كلام رب العالمين ہے پس ہم کسی میدان میں شرمندہ نہیں ہوتے اور نہ کسی بیان کے وقت مورد عتاب ہوتے ہیں اور ہمارے پر وان القران والعربية كضرتي الرحى والامر من غيرهما لا يتأتى۔ ومثلهما كمثل رب العالمین کا کلام کھولا جاتا ہے اور قرآن اور عربی ایک چکی کے دو پاٹ ہیں اور ان دونوں کے ملنے کے العروسين۔ فالعربية كزوجة كملت في الحُسنِ والزين۔ ومن خواص العربية | سوا امر مقصود حاصل نہیں ہوتا یا ان دونوں کی مثال میاں بیوی کی طرح ہے اور عربی اس بیوی کی طرح ہے جو وعجائبها المختصة انها لسان زيّنت بلطائف الصنع ووضع فيها بازاء معانى حسن اور زینت میں کامل ہو اور عربی کے خواص اور اس کی خاص عجائب باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایک متعددة بالطبع لفظ مفرد فى الوضع ليخفّ النطق به حتى الوسع ولا يحدث ایسی زبان ہے جو لطائف صنعت سے زینت دی گئی ہے اور جو طبعاً معانی متعددہ ہیں ۔ ان کے مقابل پر ایک ملالة الطبع۔ وهذا امر ذو شان ممد عند بيان لا يوجد نظيره في لسان من ہی لفظ وضع میں رکھا گیا ہے تا حتی الوسع بولنا اس کا آسان ہو اور ملالت طبع پیدا نہ ہو اور یہ ایک امرذوشان السن الاعـجـمـيـن۔ فلذلك تجد تلك الالسنة غير برية من معرة اللكن۔ ہے جو بیان میں مدد کرتا ہے اور کسی زبان میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی اسی لئے تو دیکھے گا کہ تمام زبا نہیں لکنت وخالية من فضيلة اللسن۔ ومع ذلك لا تعصم عن الفضول في الكلام۔ کے عیب سے خالی نہیں ہیں اور فصاحت کے ہنر سے محروم ہیں اور پھر وہ زبانیں فضول گوئی سے بچا نہیں سکتیں