منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 581

منن الرحمٰن — Page 209

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۰۹ مننا ولن تستطيع ان تخرجها فلا تتبع سبيل المفترين۔ ثم اعلم ان العرب (۲۵) اور تو ہرگز نہیں نکال سکے گا پس تو افترا پردازوں کا پیر و مت ہو پھر تجھے معلوم ہو کہ عرب کا مشتق من الاعراب۔ وهو الافصاح فى التكلم والسؤال والجواب۔ يقال | لفظ اعراب سے مشتق ہے اور وہ بلیغ وفصیح کلام کو کہتے ہیں جیسا کہ یہ مقولہ ہے کہ اغرَبَ الرَّجُلُ اعرب الرجل اذا كانت فى كلامه الابانة والايضاح والرزانة۔ وما كان یہ اس وقت بولتے ہیں جب کسی کی زبان فصیح ہو اور بستہ زبان نہ ہو مگر اعجم کا لفظ اس پر بولا كرجل لا يكاد يبين۔ و اما الاعجم فهو الذى لا يفصح كلامه۔ ولا جا تا ہے جو فصاحت بلاغت سے عاری ہو ۔ جس کا نظام تقریر عمدہ نہ ہو زبان میں شیر ینی نہ يحفظ نظامه۔ ولا يرى حلاوة اللسان ولا يرتب اعضاء البيان بل ہو بیان کے اعضا میں ترتیب نہ ہو بلکہ کچھ کھا جائے اور کچھ بیان کرے اور بات کو بوٹی ياكل اكثرها ويرى بعضها كعضين فهذان لفظان متقابلان و مفهومان بوٹی کر دے ۔ پس یہ دو لفظ با ہم متقابل ہیں اور دو متضاد مفہوم ہیں اور کسی نے جوانوں متضادان۔ وما اخترعهما احد من الشيوخ والشبان ۔ بل هما من خالق اور بڑھوں میں سے ان کو اپنی طرف سے نہیں بنا یا ۔ بلکہ یہ دونوں خدا تعالیٰ کی طرف سے الانسان لقوم متدبّرين۔ وقد جاء لفظ العرب في كتب أولى صحف ہیں ان کے لئے جو سوچتے ہیں ۔ اور عرب کا لفظ پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے ۔ یعنی یسعیاہ نبی يسعياه و موسى و في الانجيل تقرء و تراى۔ فثبت انه من الله الاعلى۔ کی کتاب اور موسیٰ کی کتاب اور انجیل میں ۔ پس ثابت ہوا کہ یہ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف وليس كهذا الاسم اسم لسان من الالسنة الاعجمية ولن تجد نظيره في | ہے اور کسی دوسری زبان میں ایسا نام نہیں اور کسی ولایت میں تو اس کی نظیر نہیں پائے گا ۔ العبرانية وغيرها من اللهجة ففكّر هل تعلم لها سميا في تلك الالسنة پس تو عبرانی اور دوسری زبانوں میں فکر کر کیا عربی کے ہمتام کسی اور زبان کو تو پاتا ہے