منن الرحمٰن — Page 205
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۰۵ القدم مع ازمنة العدم والفقدان و او ان الفناء والبطلان فانظر كالمجدين | اور باوجود عدم اور فقدان کے اور فنا کے کیونکر قدم باقی رہ سکتا ہے پس کوشش کرنے والوں کی طرح سوچ اور ولا تتكلم كالمستعجلين۔ جلدی کرنے والوں کی طرح مت بول ۔ واعلم ان القدم الحقيقى لا يوجد الا في ذي الجلال والاكرام۔ اور یہ بات جان کہ قدم حقیقی بجز ذات خدائے ذی الجلال کے کسی چیز میں بھی نہیں پایا جاتا اور روحوں اور ويدور رحى الفناء على الارواح والاجسام واحديته تقتضى فناء الغير في جسموں پر فنا کی چکی چل رہی ہے اور خدا تعالیٰ کی احدیت ذاتی بعض ایام میں غیر کی نیستی چاہتی ہے بجز ان لوگوں کے جو بعض الايام الا الذين دخلوا في دار الله وغسلوا ببحار الله وحقت بهم با ایمان فوت ہو کر خدا تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو گئے اور خدا تعالیٰ کے دریاؤں سے غسل دیئے گئے اور الہی نور ان پر محیط انوار الله۔ وازيل اثر الغير بآثار الله و ماتوا و هم كانوا فانين۔ في حُبّ ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے نشانوں سے غیر کے نشان مٹائے گئے اور فنافی اللہ ہو کر خدا تعالیٰ کی محبت میں فوت ہو گئے پس یہ وہی ربّ العالمين۔ فاولئك الذين لا يذوقون الموت بعد موتتهم الاولى رحمة لوگ ہیں جو اپنی پہلی موت کے بعد پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے یہ تمام رحمت ان کے بزرگ رب کی طرف سے ہے من ربهم الأعلى، فلا يرون ألما ولا بلوى۔ ويبقون في جنة الله خالدين۔ پس نہ وہ کوئی درد اور نہ بختی دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی بہشت میں ہمیشہ رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کو اپنی زندگی میں سے ويعطيهم الله حياتًا من حياته۔ وكمالات من كمالاته ولا تفنيهم غيرته بما زندگی بخشتا ہے اور اپنے کمالات میں سے کمال عطا کرتا ہے اور اس کی غیرت ان کو فنا نہیں کرتی کیونکہ اس کی وحدانیت ان احاطت عليهم احديته فطوبى للذين ضلوا في حُبّ مولى قوى متين۔ پر محیط ہو جاتی ہے پس مبارک وے لوگ جو اس کی محبت میں کھوئے گئے جوز بر دست آتا ہے۔ ثم نعود الى كلمتنا الأولى۔ ونقول ان الله الاقنى جعل پھر ہم اپنے پہلے کلمہ کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ خدائے بے نیاز نے ہر یک چیز کو پانی ۔