منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 581

منن الرحمٰن — Page 196

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۹۶ مننا صدر من رب العباد وهو مبدء كل فيض للعالمين۔ ومن المعلوم عند خیر خدا تعالیٰ سے ہی صادر ہوتی ہے اور تمام مخلوقات کے لئے وہی ہر یک فیض کا مبداء ہے اور جو لوگ ذوى العرفان ان طاقة النطق والبيان من اعظم کمالات نوع الانسان۔ ما حب معرفت ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ نطق اور بیان کی طاقت نوع انسان کے بزرگ تر بل هي كالارواح للابدان۔ فكيف يتصور انها ما اعطيت من يدالمنان ۔ کمالات میں سے ہے ۔ بلکہ وہ انسان کے لئے ایسی ہے جیسے بدنوں کے لئے روح پس کیونکر گمان کریں كلا بل هي تتمة الخلقة البشرية وحقيقة الارواح الانسية وانها من کہ وہ انسان کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نہیں ملی ۔ یہ بات ہر گز نہیں بلکہ زبان انسان کی پیدائش کا تمہ ہے اعظم نعم حضرة الاحدية۔ ولا يتم التوحيد الا بعد هذه العقيدة۔ اور انسانی روح کی حقیقت ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور توحید بجز اس أيرضى موحد بامر فيه نقص حضرة العزّة او فيه شرک کعقائد عقیدے کے پوری نہیں ہو سکتی ۔ کیا کوئی موحد کسی ا سی ایسے امر پر راضی ہو سکتا ہے جس میں حضرت عزت کی المشركين ۔ وان الذين يعرفون الله حق العرفان يعلمون انه في كل خير نسبت نقص لا زم آوے یا اس میں مشرکوں کے عقیدے کی طرح شرک ہو اور جو لوگ خدا تعالیٰ کو حق مبدء الفيضان ۔ وانـه موجـد الموجودين۔ ولا يتكلمون كالدهريين پہچاننے کا پہچانتے ہیں ۔ جانتے ہیں کہ وہ ہر یک خیر کا مبداء ہے اور ہر یک موجود کا موجد ہے اور والطبيعيين۔ اولئك الذين اوتوا حظا من المعرفة۔ وسقوا من كاس دہریوں اور طبیعوں کی طرح کلام نہیں کرتے یہ لوگ وہی ہیں جن کو معرفت کا حصہ دیا گیا ۔ دیا گیا ہے اور توحید توحيد الحضرة وجعلوا من الفائزين و ان ربنا كامل من جميع الجهات کے پیالے پلائے گئے ہیں اور کامیابوں میں سے کئے گئے ہیں اور ہمارا خدا ہر یک جہت سے کامل ہے و لا يُغرى اليه نقص فى الذات والصفات۔ وانه حميد لا يفرط اليه اور کوئی نقص اس کی ذات اور صفات کی طرف عائد نہیں ہو سکتا اور وہ تعریف کیا گیا ہے ۔ کوئی ۵۲