منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 581

منن الرحمٰن — Page 187

IAZ روحانی خزائن جلد ۹ منن الرحم و انبت كل بذرى و زرعي وهو خير المنبتين۔ وما كان لي حول أن اور اس نے میرے بیج اور کھیت کو اگایا اور وہ بہتر ہے سب لگانے والوں سے اور میری کہاں طاقت تھی کہ میں اعفر العدا۔ وما هروتُ إِذْ هروت ولكن الله هرى وما رأيت رائحة دشمنوں کو خاک میں ملاؤں اور میں نے یہ سونا نہیں چلایا جبکہ چلایا بلکہ خدانے چلایا اور میں نے مشقت نفس کی بو شق النفس و ما اشتدت لى حاجة الى انضاء العنس ۔ وما اعديت نہیں دیکھی اور مجھے کچھ ضرورت پیش نہ آئی کہ میں اپنی اونٹنی کو لاغر کروں اور میں نے قومی گھوڑے نظروں کے نہیں هياكل الانظار وما جريت طلقا مع الافكار۔ وما رأيت ذات كسور بل دوڑائے اور میں ایک تک بھی فکروں کے ساتھ نہیں چلا اور میں نے اونچی نیچی زمین کو نہیں دیکھا بلکہ میں پرندوں کی طرت كطيور او کــراكـب عـيـدهور ۔ و وجدت ما تشتهى الانفس طرح اڑا یا ایسے سوار کی طرح جو قومی اونٹ پر سوار ہوا اور میں نے ہر ایک امر جو جی چاہتا ہے اور آنکھیں اس سے وتلد الاعين و أرضعت من غيـر بـكـاءٍ وأنين۔ فتأليفى هذا امر من لذت اٹھاتی ہیں پالیا اور بغیر رونے کے مجھ کو دودھ پلایا گیا۔ پس یہ میری تالیف اسی کی طرف سے ہے اور ہر یک لديه۔ وكل امر يعود اليه وهو احسن المحمودين۔ واذا از معت لهذه | امر اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ ان سب لوگوں سے جو تعریف کئے جاتے ہیں بہتر ہے اور جب میں نے من الخطة وفكرت في تلك الأية وكذلك في اياتٍ عُلّمت ۔ اس بزرگ کام کے لئے قصد کیا اور اس آیت میں فکر کیا اور اسی طرح ان تمام آیتوں میں جو مجھے حضرت احدیت حضرة الاحدية۔ فاحسست ان قارعًا يقرع باب بالي۔ ويعلمني من سے سکھلائی گئیں سو مجھے احساس ہوا کہ گویا ایک کھٹکھٹانے والا میرے دل کے دروازے کو کھٹکھٹاتا ہے اور نہایت علم عالى وينفخ روح التفهيم والتلقين۔ فسميت الكتاب منن الرحمان اونچا علم مجھے سکھلاتا ہے اور تفہیم اور تلقین کی روح پھونکتا ہے۔ پس میں نے کتاب کا نام مسنن الرحمان رکھا کیونکہ کئی بـمـا انـعـم عـلـى ربّي بانواع الفضل والاحسان و هو خير المحسنين قسم کے فضل اور احسان سے خدا تعالیٰ نے میرے پر انعام کیا اور وہ سب سے بہتر احسان کرنے والا ہے