منن الرحمٰن — Page 175
روحانی خزائن جلد ۹ مفتا ۱۷۵ فتاح الطريقة و لا يتدبرون القرآن منصفين۔ و لا يستو كفون صيب ڈھونڈتے اور قرآن میں منصفوں کی طرح نہیں سوچتے ۔ اور الہی فیضان کے مینہ کا برسنا نہیں چاہتے اور الفيضان و يتيهون فى موماة الخسران كالعمين۔ يؤذون بحدة زیاں کاری کے ایسے جنگلوں میں پھرتے ہیں جن میں نہ دانہ نہ پانی ہے ۔ تیز کلموں کے ساتھ دکھ دیتے ہیں الكلمات و لا كحد الظباة۔ ولا يبالون مكانة الصادقين و اذا قيل اور وہ کلے ایسے تیز نہیں جیسا کہ تلواریں بلکہ ان سے بڑھ کر ہیں اور یہ لوگ سچوں کی شان کی کچھ پر واہ لهم لا تفسدوا واتقوا الله واهتدوا ۔ قالوا انما نحن اول نہیں رکھتے اور جب کہا جائے کہ فساد مت کرو اور خدا سے ڈرو اور ہدایت پذیر ہو جاؤ تو ان کا جواب یہ المصلحين۔ فبما كانوا يكذبون۔ و لا يتركون الفساد ہے ۔ کہ ہم تو اول درجہ کے مصلح ہیں ۔ پس اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور فساد کو نہیں چھوڑتے اور و يزوّرون ۔ ختم الله على قلوبهم و سقاهم سم ذنوبهم فما وُفقوا جھوٹ کی بندشوں میں مشغول ہیں خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور انہیں کے گناہوں کی زہرا نہیں پلا وصاروا من الهالكين۔ وقد نُصِحُوا فاكدى النصيحة۔ و وُعِظُوا فما دی پس وہ تو فیق یاب نہ ہوئے اور ہلاک ہو گئے اور ان کو نصیحت کی گئی ۔ پس نصیحت نے کچھ فائدہ نہ بخشا نفع الموعظة و ما اروا الاعنادا و ما زادوا الا فسادا و تراهم يعثون | اور ان کو وعظ کیا گیا مگر وعظ نے کچھ نفع نہ دیا اور انہوں نے بجز عناد کے کچھ نہ دکھلایا اور بجز فساد کے کچھ في الارض مفسدين۔ نسلوا من كل حدب و صاروا سبب كل ندب ۔ زیادہ نہ کیا اور تو دیکھتا ہے کہ وہ زمین پر فساد کرتے پھرتے ہیں ۔ ہر یک بلندی سے وہ دوڑے اور ہر یک و ساروا على نحب صايدين و اشاعوا الفسق والفجور والكذب ماتم کا وہ سبب ہوئے اور شکار مارنے کے لئے جلدی جلدی انہوں نے قدم اٹھائے اور انہوں نے بد کاری والزور۔ بما كانوا فاسقين۔ فلذلك ترى ان الامانت قلت اور بے حیائی اور جھوٹ کو پھیلایا کیونکہ وہ خود بد کار تھے ۔ اور اسی لئے تو دیکھتا ہے کہ امانت کم ہو گئی