منن الرحمٰن — Page 165
ܬ1ܙ روحانی خزائن جلد ؟ منن الرحمن قلوب فسدت و انظار زاغت و عقول فالت و آراء مالت ہوا جو بگڑ گئے اور ان نظروں پر دل دُکھا جو ٹیڑھی ہوگئیں اور ان عقلوں پر جو ضعیف ہوگئیں اور ان راہوں پر جو و اهواء صالت و اوباء شاعت من افساد المفسدين ناراستی کی طرف جھک گئیں اور ان نفسانی خواہشوں پر جنہوں نے حملہ کیا اور ان وباؤں پر جو مفسدوں کے فساد سے پھیل گئیں و رأيت ان الناس اكبـو عـلـى الدنيا وزينتها فلا يصغون الى اور میں نے دیکھا کہ لوگ دنیا اور اس کی زینت پر گرے ہوئے ہیں اور مذہب حق اور اس کے دلائل الملة وادلتها ولا ينظرون الى نضارها ونُضرتها و يعرضون كانهم کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کی زر خالص اور تازگی کو نہیں دیکھتے اور اس طرح کنارہ کرتے ہیں کہ گویا مرتابون و ليسوا بمرتابين۔ ولكنهم آثروا الدنيا على الدين ۔ لا يقبلون شک میں ہیں اور وہ دراصل شک میں نہیں بلکہ انہوں نے دنیا کو دین پر اختیار کر لیا ہے اپنی نابینائی کی لِعَميهم دقائق العرفان ولا يرون علاء البراهين۔ و كيف و انهم وجہ سے معرفت کی باریک باتوں کو قبول نہیں کرتے اور براہین کے اونچے مقام کو دیکھ نہیں سکتے ۔ اور کیونکر دیکھیں يؤثرون سبل الشيطان ويصرّون على التـكـذيـب والـعــدوان۔ انہوں نے تو شیطان کی راہیں اختیار کر رکھی ہیں اور ظلم اور تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں ولا يسلكون محجة الصادقين فطفقت ادعو الـلـه ليـؤتيني حجة تفحم اور صادقوں کی راہوں پر چلنا نہیں چاہتے ۔ سو میں نے جناب الہی میں اس غرض سے دعا کرنا شروع کیا تا کہ وہ مجھے ایسی حجت كفرة هذا الزمان و تناسب طبائع الحدثان لأبكـت سفـهـائهـم عنایت کرے جو اس زمانہ کے کافروں کو لاجواب کر دیوے اور جو اس زمانہ کے نوجوانوں کی طبائع کے مناسب حال ہوتا کہ میں ان کے و عقلاء هم باحسن البيان وتتم الحجة على المجرمين۔ فاستجاب (۲۲) کم عقلوں اور عقلمندوں کو ایک عمدہ بیان کے ساتھ ملزم کروں اور تا کہ مجرموں پر حجت پوری ہو۔ پس میرے رب نے میری دعا کو ربی دعوتی و حـقـق لــي مـنـيـتـي وفتح عـلـى بـابـها كما كانت مسئلتي قبول کیا اور میری آرزو کو میرے لئے موجود کر دیا اور میرے پر میری آرزو کا دروازہ ایسے طور پر کھول دیا جو