منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 581

منن الرحمٰن — Page 131

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۱ منن الرحمن کر کے خدا تعالیٰ کے پاک کلام قرآن مجید کی بے ادبیاں کیں اور جو کچھ گندا ندربھرا تھا وہ سب نکالا اور نادانوں کو دھوکا دیا کہ گویا وہ بڑے ویدوان اور وڈیا وان ہیں اور گویا انہوں نے بہت کچھ وید کے فضائل دیکھے تب اس کی طرف جھک گئے مگر اب یہ علمی تحقیقات ہے جس میں کسی مذہب کا جاہل بول نہیں سکتا۔ کیونکہ اس جگہ کلام کرنے کے لئے علم کی ضرورت ہے اس میں فضول اور غیر متعلق باتیں کام نہیں دے سکتیں۔ یہ سلسلہ تحقیقات ایسا کامل ہے جس کی جڑھ زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہیں یعنی انسان اس درخت کے اوپر چڑھتا چڑھتا آخر روحانی سچائی کے پھل کو پالیتا ہے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ گوشاخوں کو جڑھوں سے ہی قوت ہے مگر پھل جو کھائے جاتے ہیں وہ جڑھوں میں تو نہیں لگتے بلکہ شاخوں میں لگتے ہیں ایسا ہی کل واقعات کا اصل نتیجہ اس علم کی شاخوں میں ہی ظاہر ہوتا ہے اور جو لوگ اس کے واقعات پر منصفانہ بحث کرتے ہیں اور ثابت شدہ حقائق کو اپنے ذہنوں میں اچھی طرح محفوظ رکھتے ہیں وہ بہت صفائی سے ان پھلوں کو دیکھ لیتے ہیں جن سے شاخیں لدی پڑی ہیں۔ جانا چاہیے کہ اس معرفت تک پہنچنے کے لئے کہ قرآن منجانب اللہ اور اُم الكتب ہے صرف تین امور تنقیح طلب ہیں جن کو ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص ان تینوں امروں کو اچھی طرح سمجھ لے گا اس کی آنکھوں سے جہالت کے پردے دور ہو جائیں گے اور جو واقعات سے نتیجہ نکلتا ہے بہر حال اسے ماننا پڑے گا۔ تنقیح کے تین امروں سے پہلا امر جو اشتراک اکسنہ ہے اس کا فیصلہ ہماری اس کتاب میں ایسی صفائی سے ہو گیا ہے جو اس سے بڑھ کر کسی اعلیٰ تحقیقات کے لئے کوئی کارروائی متصور نہیں کیونکہ اشتراک کے ثابت کرنے کے لئے صرف ایک لفظ کا اشتراک دکھلا دینا کافی ہوتا ہے مگر ہم نے تو اس کتاب میں ہزار ہا الفاظ مشتر کہ دکھلا دیئے اور کمال صفائی سے ثابت کر دیا کہ عربی زبان کو ہر یک زبان کے ساتھ اشتراک ہے۔ دوسرا امر تنقیح کے امروں میں سے یہ ہے کہ مشتر کہ زبانوں میں سے صرف